بطور وزیر اعلی مریم نواز کے صوابدیدی فنڈ میں 5 گنا اضافہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صوابدیدی فنڈ میں مالی سال 26-2025 کے دوران غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت اس مد میں مختص رقم کو گزشتہ برس کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھا دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کی مالی دستاویزات کے مطابق جہاں گزشتہ مالی سال میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کے لیے تین کروڑ روپے رکھے گئے تھے، وہیں رواں مالی سال میں یہ رقم بڑھا کر 15 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اگرچہ بجٹ میں وزیر اعلی مریم نواز کے ثواب دیدی فنڈ میں 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاہم تاحال پوری رقم جاری نہیں کی گئی۔ رواں مالی سال کے دوران اب تک تقریباً چھ کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جن میں سے پانچ کروڑ 85 لاکھ روپے کے قریب رقم خرچ دکھائی گئی ہے۔ دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کا استعمال گزشتہ پانچ برسوں میں یکساں نہیں رہا۔ مالی سال 22-2021 میں اس مد میں تین کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے اور تقریباً پوری رقم خرچ ہوئی۔ 2022-23 میں اگرچہ الاٹمنٹ برقرار رہی تاہم خصوصی ایڈجسٹمنٹ کے بعد صرف دو کروڑ 40 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔ اسی طرح مالی سال 24-2023 میں بجٹ میں ایک کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے تھے لیکن بعد ازاں یہ رقم واپس لے لی گئی، جس کے نتیجے میں اس سال نہ کوئی فنڈ جاری ہوا اور نہ ہی خرچ کیا گیا۔ اس کے بعد 25-2024 میں دوبارہ تین کروڑ روپے مختص کیے گئے اور تقریباً پوری رقم استعمال کر لی گئی، جبکہ اب 26-2025 میں اس مد میں غیرمعمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ کے استعمال کا قانونی فریم ورک سنہ 1988 کے قواعد کے تحت طے کیا گیا ہے۔ ان قواعد کے مطابق یہ فنڈ نادار بیواؤں، یتیموں، مستحق طلبہ، فنکاروں اور ادبی شخصیات کی مالی معاونت، غریب مریضوں کے طبی علاج، نمایاں خدمات پر انعامات، تعلیمی، ثقافتی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں غیرمعمولی کارکردگی دکھانے والوں کو اعزازات دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ قواعد میں ایک عمومی شق بھی شامل ہے جس کے تحت وزیراعلیٰ کسی ایسے مقصد کے لیے بھی یہ فنڈ استعمال کر سکتے ہیں جسے وہ مناسب سمجھیں۔ ماہرین کے مطابق یہی شق اس فنڈ کو وسیع صوابدید فراہم کرتی ہے اور اسی وجہ سے یہ مد اکثر شفافیت، ترجیحات اور سیاسی استعمال کے حوالے سے بحث کا مرکز بنی رہتی ہے۔
ماہرِ معیشت ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا ہے کہ صوبائی سطح پر صوابدیدی فنڈ کی الاٹمنٹ کا طریقہ کار یہ ہے کہ محکمہ خزانہ بجٹ میں اس مد کے لیے رقم مختص کرتا ہے، جسے صوبائی کابینہ اور بعد ازاں صوبائی اسمبلی کی منظوری حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، ’فنڈ کے اجرا اور عملی استعمال کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہوتا ہے، جس کے باعث یہ ضروری نہیں کہ بجٹ میں رکھی گئی پوری رقم ہر سال خرچ بھی ہو۔ پنجاب کے حالیہ اعداد و شمار اس بات کی مثال ہیں کہ بعض برسوں میں یہ فنڈ نہ ہونے کے برابر استعمال ہوا جبکہ اب اسی مد میں ایک بڑا اضافہ سامنے آیا ہے۔‘
خیال رہے کہ دیگر صوبوں میں بھی وزرائے اعلیٰ کے لیے اسی نوعیت کے صوابدیدی فنڈز موجود ہیں، تاہم ان کی رقم، نام اور قواعد ہر صوبے میں مختلف ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ بجٹ بحث کے دوران وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ میں اضافے پر اعتراضات سامنے آئے، جہاں اس مد کو بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں بھی ماضی میں وزیراعلیٰ کی ہدایات پر خرچ کی جانے والی خصوصی گرانٹس بجٹ دستاویزات کا حصہ رہی ہیں۔
