آئینی ترامیم پرمولانا فضل الرحمان کا حکومت کاساتھ دینےسےانکار

 آئینی ترامیم کےمعاملے پر جلد بازی قبول نہیں،جےیو آئی کےسربراہ مولانا فضل الرحمان نےآئینی ترمیم پر حکومت کاساتھ دینےسےانکارکردیا۔

 جے یو آئی کےسربراہ مولانا فضل الرحمان نےکہاہم کسی قیمت پرحکومت کے ساتھ پلس ہونےپرآمادہ نہیں ہیں، یہ بل اپنی تفصیلات کےساتھ اس قابل نہیں کہ اس بل کو پاس کیا جائے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کےاجلاس کےپیش نظر آئینی ترامیم کابل مؤخرکردیاجائے، داخلی اورسیاسی اختلافات کویکجہتی میں تبدیل کردیا جائے۔اپوزیشن سےبھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے احتجاج کومؤخرکردیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم کسی قیمت پرحکومت کےساتھ پلس ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔ہماری ایک بھی سفارش پرکوئی قانون سازی نہیں ہوئی، اسلامی قانون سازی پرکوئی جلدی نہیں۔18 ویں ترمیم پر9مہینے بیٹھےرہےتھے، آج 24 گھنٹےکےاندرکہہ رہےہیں کہ ترمیم کریں۔حکومت کو آئینی ترمیم پر عجلت کس چیز کی ہے؟مفادات کےلیےترمیم کرنی ہوتی ہےتویہ فوراً کرتے ہیں۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےکہا ہےکہ آرٹیکل63 اےکافیصلہ قبول کرتےہیں مگر یچ فکسنگ نہیں ہونی چاہے۔حکومت کوآئینی ترامیم پاس کرنے کی کیاایمرجنسی ہے؟

مولانافضل الرحمان نےکہا کہ اپیل کرتاہوں حکومت آئینی ترامیم اوراپوزیشن اپنےاحتجاج شنگھائی کانفرنس تک ملتوی کردے۔اس وقت جوسب سےکربناک موضوع ہےوہ اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی ہےجس میں غزہ کےمسلمانوں کاقتل عام کیاجارہاہے۔ابھی تک ان کی خون سےپیاس نہیں بجھ رہی اور اسرائیل دیگراسلامی ممالک تک بڑھ رہا ہے ایسے وقت میں امت مسلمہ کےحکمرانوں کی خاموشی سوال ہےمسجد اقصی کی آزادی کےلیےتمام مسلمانوں کو مل کرکام کرناچاہیے۔

مولانافضل الرحمان نےکہا کہ اسرائیل کی پشت پرامریکا اورمغربی ممالک ہیں، مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔یہ لوگ کس طرح انسانی حقوق کی بات کریں گے۔مریکا اور مغربی دنیا کواب دنیا کی قیادت کاکوئی حق نہیں مسلمانوں کی لیڈرشپ کونشانہ بنایاجارہاہے۔مسلمان دین کی بقاء کیلئےآگےبڑھتےرہتےہیں کیونکہ وہ عقیدےپرچلتےہیں۔

جے یو آئی کے امیر نےکہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کےاجلاس میں غیرملکی مہمانوں کی پاکستان آمد ہوگی۔حکومت اجلاس تک آئینی ترمیم کابل پیش کرنےکاعمل موخر کردےداخلی تنازعات اور سیاسی تنازعات کویکجہتی میں بدل دیا جائے، اپوزیشن سےبھی اپیل کروں گا کہ وہ اپنےاحتجاج اس دوران نہ کرےاورانہیں موخر کردے تاکہ عوام کی صفوں سے مہمانوں کوکوئی منفی پیغام نہ جائے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کےجرگےکےکن پرتشدد ہوا ہے، نظریےاوربیان سےاختلاف ہوسکتاہے مگرتشدد مسئلےکا حل نہیں۔غیرمسلح جرگہ ہورہاہےاگر یہ سوچاجائےکہ اس میں کوئی پاکستان مخالف عمل ہوگا تو یہ عمل انہیں مزید مشتعل کرنےکا سبب بنے گا۔

جے یو آئی کےامیرکا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم میں ایمرجنسی پرحیرت ہے۔اتوارکو ہی بل پاس کرناہےورنہ پیرکو آسمان گرجائے گا، یہ بل اپنی تفصیلات کےساتھ اس قابل نہیں کہ اس کی حمایت کی جائےہم کسی بھی صورت اس بل کی حمایت پر آمادہ نہیں۔

مولانافضل الرحمان کاکہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل1973ءمیں بنی اور آئین میں درج ہےکہ7سال کےاندر ان کی سفارشات پرقانون سازی کردی جائےآج 2024ء آگیااوران کی ایک بھی سفارش پر قانون سازی نہیں ہوئی۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قانونی سازی کےلیےکوئی جلدی نہیں لیکن ان کے مفادات کےلیےاتنی جلدی ہےکہ راتوں رات آئین میں ترمیم کی جارہی ہے، اٹھارہویں ترمیم کےلیےہم نو مہینےساتھ بیٹھے اور مشکل سےایک ترمیم تیار کی اور آج ایک ترمیم کےلیےہمیں چوبیس گھنٹےمیں حمایت کرنےکا کہا جارہاہے یہ کس طرح ممکن ہے؟

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کےپی اوربلوچستان میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی انہیں برقرار رکھنے کے لیے قانون موجود ہیں ان پرعمل کیا جائے۔ہم چاہتے ہیں عدلیہ میں اصلاحات ہوں۔آرٹیکل 63 اےکےفیصلے پر انہوں نےکہا کہ عدالت کا فیصلہ ہے ہم اسے قبول کرتےہیں لیکن اس میں کوئی میچ فکسنگ نہیں ہونی چاہیےاور یہ سیل پرچیز کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، عدالت کااحترام اپنی جگہ لیکن ہماری ماضی کی روایات ہیں کہ اس کا غلط استعمال بھی کیا گیا اسےبھی مدنظررکھا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن حکومت کی جانب سے بند ہے پھر کہا جاتا ہے کہ مدرسے رجسٹریشن نہیں کرارہے ان کےاکاؤنٹس بند ہیں پھر کہتے ہیں ان کی آمدنی کا ذریعہ نہیں پتا چل رہا، یہ سب حکومت کی طرف سے ہے اس پرکوئی ایمرجنسی نہیں، جس مسئلےپرمغرب سےانہیں شاباش ملے اس پر کوئی ایمرجنسی نہیں مگر مفادات کےلیےایمرجنسی ہوجاتی ہےاگر ان مسائل کو ترجیح نہ ملی تو ہماری طرف سے بھی حکومت تجاویزکوترجیح نہیں دی جائے گی، اگر ہم اتنےاہم ہیں اورہمارا ووٹ اتنا اہم ہے تو ہماری بھی سنی جائے۔ایک سوال پر انہوں ںےکہا کہ سعودی عرب کواسرائیل کےخلاف امت مسلمہ کی قیادت کرنی چاہیے،پاکستان،انڈونیشیا،مصر،ملائشیا اور ترکی کاایک گروپ ہونا چاہیے۔

اسلام آبادمیں مظاہرین سےنرمی نہیں برتی جائے گی،محسن نقوی

مولانافضل الرحمان نےکہا کہ پی ٹی آئی اور پی پی سےبات ہوئی ہےسب جماعتوں سے کہاہےکہ آئینی ترامیم پر اپنا اپنا ڈرافٹ بنائیں جسےشیئر کرکےاتفاق رائے کرلیتے ہیں تاہم فی الوقت اتفاق رائے نہیں ہے۔آرٹیکل 63 اےکےفیصلے کےبعدوفاداریاں تبدیل کرنےکےسوال پر انہوں نے کہا کہ آج تک ہمارےکسی رکن نےوفاداری تبدیل نہیں کی۔انہوں نےمزیدکہا کہ پی ٹی آئی اورہمارا کسی مشترکہ اجتماع کا فیصلہ نہیں ہوا وہ اپنےجلسےکریں گےہم اپنےجلسے کریں گے۔

Back to top button