کیا شرپسندوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل سیاسی انتقام ہے؟

نو مئی کو تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف فوجی تنصیبات پر حملوں کے مقدمات کا سامنا ہے۔ بیشتر زیر حراست بھی ہیں اور 45 افراد کو اب تک کارروائی کے لیے فوج کے حوالے کیا جا چکا ہے۔دوسری جانب آرمی ایکٹ کے تحت سویلین کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے خلاف قانون دان اعتزاز احسن کی درخواست پر سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔قانون دانوں کی جانب سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات کی سماعت سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔

بعض تجزیہ کار یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا ماضی میں عام شہریوں پر دہشت گردی کے الزام کے تحت مقدمات چلائے گئے تھے لیکن نو مئی کے واقعات کی وجہ سیاسی اختلاف تھا نہ کہ دہشت گردی۔سینیئر قانون دان حامد خان کے بقول: ’جن افراد نے فوجی علاقوں میں جلاؤ گیھراؤ کیا ان کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے لیکن اس کے لیے سول عدالتیں موجود ہیں۔‘فوجداری مقدمات کے سینیئر قانون دان برہان معظم کے مطابق: ’اگر فوجی تنصیبات پر حملوں کو دہشت گردی کے حملے قرار دیا جاتا ہے اور اس حوالے سے فوجی ایکٹ کے تحت ملوث ملزمان پر مقدمہ چلانا ہے تو پہلے کی طرح قانون میں پارلیمان سے ترمیم کروانا لازم ہے۔‘لاہور ہائی کورٹ کے سابق جسٹس ظفر اللہ خان کے مطابق: ’یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ لہذا عدالت دیکھے گی کہ کیا حملہ کرنے والوں کا مقصد دہشت گردی تھا، اس میں صرف سویلین ملوث ہیں اور کیا کسی سیاسی جماعت کےکارکن ہیں تو ان کا مقصد احتجاج تھا جس کے دوران اشتعال پھیلا یا یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حملہ تھا؟‘سابق صدر ہائی کورٹ بار لاہور مقصود بٹر نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی آئین کے تحت تشریح کی جائے جو آئین کہتا ہے اس پر عمل کیا جائے۔‘

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حامد خان کا اس ھوالے سے کہنا ہے کہ ’کسی بھی جرم میں ملوث افراد کو قانون کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ملکی تاریخ میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران سیاسی کارکنوں کا کورٹ مارشل ہوا تھا۔ اس وقت آئین بھی معطل تھا اور بنیادی انسانی حقوق بھی سلب تھے۔ اس کے بعد یا پہلے کسی سیاسی کارکن یا رہنما کا کورٹ مارشل نہیں ہوا نہ ہی ایسی کوئی مثال موجود ہے۔’ملک میں جیسا بھی جرم ہو اس کے لیے آئین میں ہر طرح کی سزا و جزا موجود ہے۔ عدالتیں موجود ہیں حتی کہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے لیے الگ سے انسداد دہشت گردی کی عدالتیں بنی ہوئی ہیں۔ لہذا جس کسی پر بھی دہشت گردی کا مقدمہ ہو وہ بھی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں چلایا جاسکتا ہے۔‘

دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ظفر اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا معاملہ سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے۔ عدالت اس معاملے میں یہ بھی دیکھے گی کہ اس میں کون لوگ ملوث ہیں، ان کے کیا عزائم تھے، یہ صرف احتجاج کے دوران اشتعال میں ہوا یا کوئی سازش رچائی گئی تھی؟‘جسٹس ریٹائرڈ ظفر اللہ خان کے بقول ’یہ اپنی نوعیت کا الگ کیس ہے جس میں عدالت عظمی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر کوئی فیصلہ دے گی۔ اس فیصلہ میں طے ہوگا کہ قانونی طور پر کیا ہوسکتا ہے کیا نہیں ہوسکتا کیوں کہ یہ فیصلہ آئندہ کے لیے بھی مثال ہوگا۔ اگر ان واقعات کو دہشت گردی کے جرائم میں شامل کیا جاتا ہے تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر یہ کسی تنظیم کے کارکن ہیں وہ تنظیم کالعدم ہے یا اس کا مقصد دہشت گردی ہے۔‘

حکومتی اہلکار اور تحریک انصاف کےمخالفین کا موقف ہے کہ اگر نو مئی کے حملوں میں ملوث افراد عام سیاسی کارکن بھی ہوں، ان کا جرم یعنی فوجی تنصیبات پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے لہذا فوجی عدالتوں میں ان پر مقدمات چلائے جاسکتے ہیں۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ 9 مئی کو عسکری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے کیسز بہر صورت فوجی عدالتوں میں ہی چلیں گے۔رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور ملٹری ایکٹ کا اطلاق ان کیسز میں ہوتا ہے جب کوئی عسکری عمارت اس میں شامل ہو، اگر کوئی شخص چاہے وہ کوئی فوجی کیوں نہ ہوں اور اگر وہ مجاز نہ ہوں جانے کا، تو اس کے اوپر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ہو سکتا ہے، ایسی عمارت میں گھسنا، آس پاس رہنا یا لوگوں کو داخل کروانا قابل سزا جرم ہے، حساس عمارتوں کے قریب احتجاج اور ویڈیوز نہیں بنائی جا سکتی۔وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کے حوالے سے کسی قانون سازی یا ترمیم کی ضرورت نہیں۔ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ شرپسندوں کیخلاف کارروائی میں کسی قسم کا سیاسی انتقام شامل نہیں، عمرانڈوز نے جو بویا ہے اس کا خمیازہ ہی بھگت رہے ہیں اور اس حوالے سے کسی کو کوئی رعیات نہیں دی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ عسکری اداروں پر حملہ کرنے والا جتھہ اگر سیاست کرنا چاہے گا اس کو تو اجازت نہیں ہوگی،9مئی کے ذمہ دار سیاست چھوڑ بھی دیں تو بھی کارروائی ضرور ہوگی۔

پاکستان میں جہاں حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں نو مئی کے واقعات میں ملوث سیاسی کارکنوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے حق میں ہیں وہیں چند سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت بھی کر رہی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ انتقام کی سیاست کی مخالفت کی ہے اور وہ سیاسی کارکنوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے خلاف ہے۔جماعت اسلامی کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف بھی اس کی مخالفت کر رہی ہے جس کے کارکنان کے بارے میں حکومت کا موقف ہے کہ وہ رہنماؤں کے کہنے پر جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہوئے تاہم پی ٹی آئی نے ایسے تمام افراد سے اعلان

نوازشریف،جہانگیرترین کو ریلیف مل گیا،نااہلی کی سزا 5سال ہوگی،بل منظور

لا تعلقی کیا ہے۔

Back to top button