مصطفی عامر قتل کیس : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے آئی جی سندھ سے تفصیلات طلب کرلیں

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کراچی میں ہونےوالے مصطفی عامر قتل کیس کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو متعلقہ حکام کے ہمراہ پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے متعلقہ حکام سے ملزم ارمغان کی منشیات فروشی و دیگر تمام جرائم کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے آئی جی سندھ کو جمعہ کے روز طلب کیاہے۔ کمیٹی نے آئی جی سندھ کو متعلقہ حکام کے ہمراہ پیش ہونے کی ہدایت بھی کی۔

یاد رہے کہ ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتےہوئے بتایا تھاکہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا،مقتول کی والدہ نے اگلےروز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپےتاوان کی کال موصول ہونے کےبعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیاگیا تھا۔

بعد ازاں اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجےمیں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہو گیا تھا۔

ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کےبعد گرفتار کیاگیا تھا، جس کےبعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کےلیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینےکے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا،جس کےخلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔

ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھاکہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کےبعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنےبیان سے منحرف ہوگیاتھا۔

بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کےدوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھاکہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کےبعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لےجانے کے بعد نذرآتش کر دی تھی۔

ملزم شیراز کی نشاندہی کےبعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جب کہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کر کے رفاہی ادارے کےحوالے کر چکی تھی جسے امانتاً دفن کر دیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کےبعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

تفتیشی افسران کےمطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کےبعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی،گرفتار کیاگیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔

کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کروانے کےلیے تیار نہیں : چیف الیکشن کمشنر

کراچی پولیس کا کہنا ہےکہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے، ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔

بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کےلیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نےقبر کشائی کا حکم جاری کر دیا تھا۔

Back to top button