قومی اسمبلی:وفاقی بجٹ 2025-26کثرت رائےسےمنظور

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا 17 ہزار 573 ارب کا وفاقی بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا۔
سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں فنانس بل 2025 کی شق وار منظوری کا عمل مکمل کیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل کی منظوری سے متعلق تحاریک پیش کیں، جنہیں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن کی جانب سے فنانس بل کی منظوری ملتوی کرنے اور عوامی رائے کے لیے پیش کرنے کی تجاویز بھی کثرت رائے سے مسترد ہو گئیں۔
فنانس بل کے تحت سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف گرفتاری سمیت سخت اقدامات تجویز کیے گئے۔ ان ترامیم میں جعلی انوائسز، ٹیکس شواہد مٹانے، یا معلومات میں دانستہ غلط بیانی کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
اگر ٹیکس فراڈ کی مالیت 5 کروڑ روپے یا اس سے زائد ہو تو گرفتاری کے لیے ممبر آپریشنز اور ممبر لیگل پر مشتمل کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی۔ ایسے افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
ایوان نے سیلریز اینڈ الاؤنس ایکٹ 1975 میں ترامیم منظور کرتے ہوئے اراکین پارلیمنٹ، وزراء، اور وزرائے مملکت کی تنخواہیں برابر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب ان کی تنخواہوں و مراعات کا تعین ہاؤس کمیٹی کرے گی، سیکرٹریٹ نہیں۔
اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کسٹم ایکٹ 1969 میں ترمیم کرتے ہوئے کارگو ٹریکنگ سسٹم اور ای-بلٹی سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ سامان کی نقل و حرکت کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی۔ ای-بلٹی سسٹم کی خلاف ورزی پر جرمانے اور قید کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔
ایوان نے پیٹرولیم مصنوعات پر 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کاربن لیوی اور سولر پینل پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی، تاہم حکومت نے اسے پہلے کی تجویز کردہ شرح سے 50 فیصد کم کر دیا۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے پیپلز پارٹی کی تجاویز کو شامل کیا، جس کے بعد وہ بجٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں 20 فیصد اضافے کو بجٹ کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
بجٹ منظوری سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فنانس بل 2025-26 کی منظوری دی گئی تھی۔
