کیا نواز شریف دوبارہ اپنی واپسی ملتوی کرسکتے ہیں؟

21 اکتوبر کو نون لیگی قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے اعلان کے بعد ایک طرف لیگی قیادت کی طرف سے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں اور نواز شریف کے استقبالی جلسے کو کامیاب کروانے کیلئگ مریم نواز کے بعد سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے صدر شہباز شریف اپنے بیٹے حمزہ شہباز کے ساتھ میدان میں اتر چکے ہیں تاہم دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود مفاہمتی پالیسی کا حامی گروپ نواز شریف کی وطن واپسی مؤخر کرانے کے لیے سرگرم ہوگیا اور اس نے نواز شریف کی واپسی کو فی الحال ملتوی کرنے کی تجویز دے دی ہے۔
ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق مفاہمتی گروپ نے اپنی تجویز نواز شریف تک پہنچا بھی دی ہے تاہم نواز شریف نے تجویز پر فوری طور پر ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مفاہمتی گروپ کا موقف ہے کہ فی الحال مہنگائی، بے روزگاری اور بے تحاشا یوٹیلیٹی بلز سے پریشان عوام کو نواز شریف کی وطن واپسی میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے، شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز لاہور میں عوامی رابطہ مہم شروع کر کے عوامی رائے بھانپ چکے ہیں اس لیے موجودہ حالات میں عوام کی جانب سے نواز شریف کے شایان شان استقبال کی توقع رکھنا مناسب نہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق عام انتخابات کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں ہوا، عام انتخابات کے قریب یا باقاعدہ تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد نواز شریف وطن واپس آئیں تو زیادہ بہتر ہے۔ذرائع کے مطابق سینئر لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی بھی لندن میں نواز شریف سے ملاقات میں یہی موقف دہرا چکے ہیں تاہم نواز شریف واپسی کا ذہن بنا کے اور پارٹی کو استقبال کی تیاری کا کہہ چکے ہیں۔
دوسری جانب اس رائے کے برعکس ن لیگ میں موجود دوسرے گروپ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کو ملتوی کیا گیا تو عوام میں ہمارا اچھا تاثر نہیں جائے گا اس لیے قائد وطن واپسی کے اپنے فیصلے پر قائم رہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی نواز شریف کی وطن واپسی میں تاخیر کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کا پروگرام فائنل ہے، پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ نواز شریف پہلے سعودی عرب عمرہ کی ادائیگی کیلیے جائیں گے، وہ متحدہ امارات بھی قیام کریں گے جس کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے۔عرفان صدیقی نے کہا کہ نوازشریف کی واپسی کے پروگرام کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، کسی مفاہمتی گروپ کی جانب سے ان کے واپس نہ آنے کی خبریں چلائی جا رہی ہیں جو درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں نہ تو کوئی مفاہمتی گروپ ہے نہ مزاحمتی، نواز شریف کی واپسی سے متعلق سب افواہوں کی تردید کرتا ہوں ۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق ملکی معاشی حالات اور ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے لیے ملکی حالات مثالی نہیں ہوں گے۔ ایک طرف بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے نون لیگ کو عوامی رد عمل کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف پارٹی میں بیانیے کی جنگ بھی جاری ہے۔ نواز شریف لندن میں احتساب کی بات کرتے ہیں تو شہباز شریف پاکستان میں ان سے مختلف بیان دے دیتے ہیں۔ تاہم مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے پاس وطن واپس آنے اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ لے کر چلنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ نواز شریف کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ وطن واپس آنے پر مصر ہیں اور کہتے
حکومت سنبھالی تو سیاست کے بجائے ریاست کو بچایا
ہیں کہ میں اب پاکستان نہیں جاؤں گا تو پھر کب جاؤں گا۔
