او آئی سی نے 5 اگست کے اقدامات اور بھارتی انتخابات کو مسترد کر دیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مقبوضہ کشمیر میں سیاسی و سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کے مطابق اجلاس کی صدارت او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے سیاسی امور یوسف ایم نے کی، جبکہ رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، نائیجر اور آذربائیجان کے نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں کشمیری عوام کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور بھارتی حکومت کے جابرانہ اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے غیرقانونی قبضے کو مضبوط کرنے، کالے قوانین، آبادیاتی تبدیلیوں اور کشمیری عوام پر مظالم کی شدید مذمت کی۔

طارق فاطمی نے او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خاتمے کے لیے موثر دباؤ ڈالے۔

ترجمان کے مطابق، اجلاس میں او آئی سی وزرائے خارجہ نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان و آزاد کشمیر میں بھارتی حملوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔

او آئی سی نے حالیہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا، تاہم یہ واضح کیا کہ پہلگام حملے کے بعد کی صورت حال نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ کشمیر مسئلے کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ بھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔

مزید یہ کہ او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں جاری کریک ڈاؤن، 2800 سے زائد افراد کی گرفتاری، گھروں کی مسماری، اور کشمیری رہنما شبیر شاہ کی بیماری کے باوجود رہائی نہ دینے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس میں ہزاروں سیاسی کارکنان اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی گرفتاریوں کے علاوہ سری نگر جامع مسجد اور عیدگاہ میں مذہبی اجتماعات پر عائد پابندیوں کی بھی مذمت کی گئی۔

او آئی سی نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات اور آبادیاتی تبدیلیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرائے جانے والے بھارتی انتخابات کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔

آخر میں، او آئی سی نے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کے دورہ پاکستان اور آزاد کشمیر کو خوش آئند قرار دیا۔

Back to top button