سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کا قائداعظم کی تصویر غائب ہونے پر شدید احتجاج

سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے حکومتی شخصیات کو سول ایوارڈ دینے اور یومِ آزادی کے اشتہار میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر شامل نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ سینیٹ اراکین کو 14 اگست اور 23 مارچ کو سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار، محسن نقوی، مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ، فیصل سبزاوری، شیری رحمان، سینیٹر بشریٰ انجم اور احد چیمہ کو سول ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

ان کے مطابق عرفان صدیقی اور سرمد علی کو بھی سول ایوارڈ دیا جائے گا، جو 23 مارچ کو تفویض کیا جائے گا۔

تاہم، اس اعلان پر اپوزیشن اراکین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے سوال کیا کہ ایوارڈز دینے کا معیار اور بنیاد کیا ہے؟ پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ عمران خان نے اقوام متحدہ میں ناموس رسالت کا مسئلہ اٹھایا اور اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، پھر انہیں نظر انداز کیوں کیا گیا؟

پاکستان سے دشمنی کرنےو الوں کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے: اسحاق ڈار

سینیٹر فیصل جاوید نے یومِ آزادی کے سرکاری اشتہار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ "اشتہار میں پورے ٹبر (خاندان) کی تصویر تھی مگر قائداعظم کی تصویر موجود نہیں تھی، یہ انتہائی شرمناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔”

انہوں نے چیئرمین سینیٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر وضاحت طلب کریں، کیونکہ اشتہار عوام کے ٹیکس کے پیسے سے تیار کیا گیا ہے۔

Back to top button