پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات مسلسل بداعتمادی کا شکار

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات نازک موڑ پر آ گئے ہیں۔ استنبول میں ہونے والے مذاکرات سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان لفظوں کی جنگ، الزامات، اور آن لائن پروپیگنڈا مہمات نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ بات چیت کسی قابلِ ذکر نتیجے تک پہنچ پائے گی یا نہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ پاکستان کا یہ الزام ہے کہ تحریکِ طالبان کے جنگجو افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں اور پاکستان پر امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے دانستہ کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور فوجی قیادت نے حالیہ دنوں میں غیر معمولی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر سرحد پار سے حملے جاری رہے تو پاکستان "افغانستان کے اندر گہرائی تک کارروائی” کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ اسی دوران پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کابل پر ٹی ٹی پی کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے حملے رکوانا پاکستان کا غیر مشروط مطالبہ ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ٹی ٹی پی نہ صرف افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتی ہے بلکہ افغان طالبان کی عملی حمایت سے وہاں سے کارروائیاں بھی کر رہی ہے۔ اسلام آباد کا مطالبہ ہے کہ کابل انتظامیہ یا تو ٹی ٹی پی کے خلاف خود کارروائی کرے، یا پاکستان کو یہ اجازت دے کہ وہ ان کے ٹھکانوں پر کارروائی کر سکے۔
دوسری جانب افغان طالبان کی حکومت پاکستان پر اشتعال انگیزی اور کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا رہی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اسلام آباد امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے افغانستان کے اندر عدم استحکام پیدا کر رہا ہے تاکہ امریکہ کی بگرام ایئر بیس پر واپسی ممکن ہو سکے۔ طالبان حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پاکستان مخالف مواد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس میں بعض پوسٹس میں "گریٹر افغانستان” کے نقشے اور پاکستان مخالف نعرے شامل ہیں۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق یہ آن لائن مہمات پاکستان میں وائرل ہونے والے ایک گانے "نمک حرام” کے ردعمل میں شدت اختیار کر گئیں، جس میں افغان طالبان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے پاکستان کی دہائیوں پر محیط حمایت کا بدلہ "غداری” سے دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ٹی ٹی پی کا معاملہ ہے۔ خراسان ڈائری سے وابستہ صحافی افتخار فردوس کے مطابق پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف قابلِ تصدیق اور عملی کارروائی کریں۔ لیکن افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور وہ کسی کو اپنی سرزمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتے۔
افغان مؤقف یہ بھی ہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والے حملے اُن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے کیونکہ یہ واقعات سرحد سے سینکڑوں کلومیٹر اندر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹی ٹی پی کے افراد "مہاجرین” کے طور پر افغانستان میں موجود ہیں اور طالبان حکومت انہیں دہشت گرد گروہ کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔
افتخار فردوس کے مطابق استنبول مذاکرات میں اس وقت توجہ ایک "مانیٹرنگ اینڈ ویریفیکیشن میکانزم” پر مرکوز ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سرحدی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور تصدیق کے لیے مشترکہ نظام قائم کیا جا سکے۔ ترکی اور قطر کی ثالثی میں اس ماڈل کو شام کے امن عمل کے طرز پر ڈیزائن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں متحارب گروہوں کی سرگرمیوں پر تین ضامن ممالک کی نگرانی میں معاہدے طے پائے تھے۔
افغان تجزیہ کار تمیم باحث کے مطابق مسئلے کی جڑ افغان طالبان کا یہ انکار ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک طالبان اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے، بات چیت میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق طالبان کے لیے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہ صرف نظریاتی بلکہ سیاسی طور پر بھی مشکل ہے کیونکہ دونوں گروہ برسوں سے ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔
تمیم باحث ماضی کی مثال دیتے ہیں کہ جب 1990 کی دہائی میں طالبان نے القاعدہ کے خلاف کارروائی سے انکار کیا تھا، تو آج ٹی ٹی پی کے معاملے میں بھی ان سے مختلف رویے کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔ ان کے مطابق طالبان کے لیے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی "اپنے ہی اتحادیوں کے خلاف جنگ” کے مترادف ہو گی۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین مذاکرات کی کامیابی ناممکن کیوں؟
تاہم وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے تحفظات جائز ہیں کیونکہ ٹی ٹی پی کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ملکی سلامتی کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنی ہوگی کیونکہ براہِ راست فوجی کارروائیاں خطے میں ایک نئی سطح کی کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں۔
لہذا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات کی کامیابی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ افتخار فردوس کے مطابق اگر افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کسی کارروائی پر آمادہ ہو جائیں تو یہ ایک "حیران کن پیش رفت” ہوگی، لیکن موجودہ حالات میں اس کا امکان نہایت کم ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی طرف سے حالیہ سخت بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ فریقین مذاکرات کے ساتھ ساتھ عوامی دباؤ کے تاثر میں بھی ایک دوسرے پر نفسیاتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تمیم باحث کے نزدیک یہ صورتحال خطرناک ہے کیونکہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک نئی جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں طالبان اپنے آپ کو فاتح قوت سمجھتے ہیں اور وہ پاکستان کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ دوسری طرف پاکستان اپنی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر نرم مؤقف اپنانے کے لیے تیار نہیں۔
