پاکستان اور افغانستان کے مابین مذاکرات کی کامیابی ناممکن کیوں؟

افغان طالبان کی طرف سے عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے اور سرحد پار دہشتگردانہ کارروائیوں سمیت دیگر حل طلب معاملات کے حل کے حوالے سے عملی اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین ڈیڈ لاک برقرار رہے۔ گزشتہ مذاکراتی دور میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مربوط کارروائیوں پر اتفاق کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے پر سرحدی خلاف ورزیوں، فضائی حملوں اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے الزامات لگا رہے ہیں۔ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بداعتمادی، باہمی الزام تراشی اور کشیدگی برقرار رہنے کی وجہ سے 6 نومبر کو استنبول میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔ مبصرین کے مطابق آمدہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی میں توسیع تو ہو سکتی ہے تاہم دونوں ممالک میں بڑھتی کشیدگی کے دوران کسی بڑے بریک تھرو کی کوئی امید نہیں۔
خیال رہے کہ 25 سے 30 اکتوبر تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ایک لحاظ سے ناکام رہے تھے کیونکہ اس مذاکراتی دور میں دونوں ممالک کے مابین دہشتگردی کی مانیٹرنگ کے حوالے سے میکنزم طے نہیں ہو پایا تھا لیکن ان مذاکرات میں سیز فائر کو 6 نومبر تک توسیع دے دی گئی تھی۔ تاہم پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین گزشتہ مذاکرات کے دور میں جن معاملات پر ڈیڈلاک موجود تھا وہ ڈیڈلاک تاحال برقرار ہے جبکہ دونوں ممالک کے مابین مذاکرات شروع ہونے سے قبل جو ماحول ہونا چاہییے تھا وہ ماحول بھی اب کہیں دکھائی نہیں دیتا جو مذاکرات کی کامیابی کے لیے اچھا شگون نہیں تاہم مبصرین کے مطابق اگر حالیہ صورتحال میں دونوں ممالک صرف جنگ بندی پر ہی اتفاق کر لیتے ہیں تو یہ بھی ایک بڑی پیشرفت قرار پائے گی۔
مبصرین کے مطابق مذاکرات کے اگلے مرحلے کی کامیابی کا دارومدار اِس بات پر ہے کہ طرفین کی جانب سے اعتماد سازی کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں کیونکہ اِس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ 30 اکتوبر سے اب تک دونوں اطراف سے تند و تیز بیانات جاری کیے گیے ہیں۔ افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں ایک بیان دیا کہ استنبول مذاکرات میں افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے حامل افراد کو ڈی پورٹ کرنے کی پیشکش کی لیکن پاکستان نے انکار کرتے ہوئے انہیں افغانستان میں ہی روکنے کا مطالبہ کیا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کارروائیاں اور فضائی حملے امریکی افواج کو بگرام ایئر بیس پر واپس لانے کی راہ ہموار کرنے کیلئے کئے گئے ہیں جبکہ امریکا کے ڈرون پاکستان کی فضائی حدود سے گزر کر افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ مجاہد نے مزید کہا کہ پاکستان کا واحد مطالبہ تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرنا ہے لیکن ٹی ٹی پی افغان حکومت کے ماتحت نہیں اور یہ پاکستان کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس لئے افغانستان اس بارے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھا رہا۔
ذبیح اللہ مجاہد کی ہرزہ سرائی کے جواب میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ان کے بیانات کو ’مکاری اور گمراہ کن‘ قرار دیا اور کہا کہ طالبان حکومت افغانستان کی نمائندہ نہیں ہے، یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے، اور نسلی گروہوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر ظلم ڈھا رہی ہے۔ طالبان حکومت میں گہرے اندرونی اختلافات ہیں اور یہ افغان عوام کو اظہار رائے، تعلیم اور سیاسی نمائندگی جیسے بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ خواجہ آصف کا یہ ردعمل پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی تناؤ اور مذاکرات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 6 نومبر 2025 کو استنبول میں ہونے والا مذاکرات کا تیسرا دور ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہو گا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دی جا رہی ہے جو پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان پاکستان پر فضائی حملوں اور سرحدی خلاف ورزیوں کا الزام لگارہا ہے۔دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی برقرار ہے تاہم مذاکرات کے اگلے دور میں جنگ بندی کی نگرانی اور معاہدے کے نکات پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت ہو گی۔ تاہم دونوں ممالک کے مابین پائے جانے والے عدم اعتماد اور جاری الزامات کی وجہ سے کسی بڑی پیشرفت کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ پاکستانی عسکری قیادت نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ اگر افغان طالبان کی جانب سے سرحدی حملے اور دراندازی کی کوششیں جاری رہیں تو جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق جنگ بندی کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے مابین تلخی اور کشیدگی تاحال موجود ہے، سرحدیں بند ہیں دونوں ممالک کی جانب سے اعتماد سازی کی بجائے بیانات کا سلسلہ جاری ہے مثبت پیغامات دینے کی بجائے ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے لیے گانے بنائے جا رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان صورتحال جوں کی توں ہے۔ جن معاملات پر دونوں ممالک میں ڈیڈلاک موجود تھا وہ ابھی تک برقرار ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ 25 سے 30 اکتوبر تک ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی اور مزید مذاکرات پر اتفاق اچھی بات تھی لیکن اس کے بعد کچھ ایسی چیزیں ہونی چاہیے تھیں جو مذاکراتی عمل کو آگے بڑھا پاتیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے 6 نومبر کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے کسی بڑے بریک تھرو کی کوئی امید نہیں،تاہم اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں ایک فریم ورک طے ہو جائے جس میں سرحدی نگرانی، معلومات کا تبادلہ اور مرحلہ وار اقدامات شامل ہوں لیکن یہ پیشرفت کشیدگی کے خاتمے اور فوری امن کی ضامن نہیں ہو گی لیکن کشیدگی کو کم ضرور کر دے گی۔ مبصرین کے بقول اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دہشتگردی میں ملوث گروہ افغانستان سے کاروائیاں کر رہے ہیں جبکہ کابل کا کہنا ہے کہ ان دہشتگرد گروہوں پر ان کا مکمل کنٹرول نہیں اِس لیے ان کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہے۔ اسی لئے آمدہ مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں کسی کو بھی کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔
