چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 14 ارب 37 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا

مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 14 ارب 37 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا، جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 2 ارب 42 کروڑ ڈالر زیادہ ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران چین سے 16 ارب 75 کروڑ ڈالر کی درآمدات کیں، جبکہ چین کو پاکستانی برآمدات صرف 2 ارب 38 کروڑ ڈالر تک محدود رہیں۔
سال 2023-24 میں پاکستان کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 11 ارب 95 کروڑ ڈالر تھا، اس سال چین سے درآمدات کا حجم 14 ارب 51 کروڑ ڈالر اور برآمدات 2 ارب 56 کروڑ ڈالر تھیں۔
تجارتی خسارے میں اضافے کی بڑی وجہ پاکستان کی چین سے درآمدات کا مسلسل بڑھنا اور اس کے مقابلے میں برآمدات کا محدود ہونا ہے، جس سے تجارتی توازن چین کے حق میں اور پاکستان کے خلاف مزید بگڑ گیا ہے۔
گردشی قرضہ 3.81 ٹریلین سے 561 ارب روپے تک محدود کرنے کا فیصلہ
جون 2025 کے دوران (یعنی صرف ایک ماہ میں) پاکستان کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ ایک ارب 16 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، اس مہینے میں چین سے درآمدات کا حجم 1 ارب 31 کروڑ 30 لاکھ ڈالر جبکہ پاکستانی برآمدات محض 15 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں۔
واضح رہے کہ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، لیکن درآمدات اور برآمدات کے درمیان اس قدر وسیع فرق، ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی بیلنس پر شدید دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
