کیا پیپلز پارٹی کو سندھ میں ٹف ٹائم دینا ممکن ہے؟

’’سیاسی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے بعد سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی حکمت عملی از سر نو مرتب کرتے ہوئےنئی سیاسی صف بندیاں شروع کر دی ہیں۔جہاں ایک طرف پیپلز پارٹی نے پنجاب فتح کرنے کی پلاننگ شروع کر رکھی ہے وہیں مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام نے سندھ میں پیپلزپارٹی کے مقابل نئے اتحاد کی داغ بیل ڈال کر اسے اپنے روایتی گڑھ اندرون سندھ میں چیلنج دے دیا ہے۔ ایم کیو ایم ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جی ڈی اے اورجمعیت علمائے اسلام ( ف) نے جہاں سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کا اعلان کردیا ہے وہیں تینوں اتحادی جماعتوں نے نگراں وزیراعلیٰ جسٹس مقبول باقرپر بھی عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نگراں وزیراعلی ہاؤس پیپلز پارٹی سیکرٹریٹ بناہوا ہے۔ تینوں اتحادی جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر سے صوبے میں شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کےلئےسندھ میں سسٹم توڑنے، صوبائی الیکشن کمشنر کو ہٹانےاور افسران کےبین الصوبائی تبادلےکا مطالبہ بھی کردیا ہے ،ذرائع کے مطابق تینوں اتحادی جماعتوں نے پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کو مزید مضبوط کرنے اور وسیع تر اتحاد کے لئے نواز لیگ اور قوم پرست جماعتوں سے بات کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ،

تاہم دوسری طرف مبصرین کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد تشکیل نہیں دے گی تاہم مسلم لیگ نو ن کےساتھ اس کے قریبی سیاسی تعلق کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کو یقین ہوگیاہے کہ آئندہ جاڑے میں پاکستان عام انتخابات سے ہمکنار ہوگا موجودہ نگران حکومت کے بعض طویل المدتی منصوبوں پر کام کرنا بعض جماعتوں کو سیاسی عزائم کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے تاہم پاکستان مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام کو اس بارےمیں سرے سے کوئی تحفظات نہیں ہیں یہ دونوں اورا ن کی مقرب سیاسی جماعتیں سرمایہ کاری کی خصوصی کونسل سمیت حکومتی اقدامات کی کامیابی کے لئے ہر طرح کی یقین دہانی کرانے کے لئے تیار ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور جے یو آئی ف کے وفود کی کئی ملاقاتوں میں مختلف نکات پر اتفاق ہوگیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کیخلاف سندھ بھر میں مشترکہ امیدوار کھڑے کیے جائینگے۔ جس حلقے میں جس جماعت کی اکثریت ہوگی وہاں کوئی اتحادی اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے پیپلزپارٹی مخالف بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے آئندہ انتخابات میں اپنے مشترکہ حریف کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اپنی تیار کردہ سیاسی حکمت عملی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی پر سندھ میں بدعنوانی، اقربا پروری اور سیاسی تعصب پر مبنی متوازی نظام حکومت متعارف کرانے کا الزام عائد کیا ہے۔ایم کیو ایم رہنما یہ اعتماد بھی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں کہ جی ڈی اے کے ساتھ ان کی شراکت داری اگلے عام انتخابات کے بعد سندھ میں مخلوط حکومت کی تشکیل کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ایم کیو ایم کا خیال ہے کہ اگر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد ہوں تو پیپلزپارٹی کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی صوبے میں بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے درمیان تازہ قربت سندھ اسمبلی کی تحلیل سے چند ہفتے قبل شروع ہوئی، اگست 2023 میں سندھ اسمبلی نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔اگرچہ دونوں فریق سندھ اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں کا حصہ تھے لیکن دونوں کے درمیان اس وقت قربت بڑھی جب جی ڈی اے نے ایم کیو ایم کی جانب سے جولائی 2023 میں اپنی رکن اسمبلی رعنا انصار کو سندھ اسمبلی میں پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کی کوشش کی حمایت کی، قبل ازیں اسپیکر سندھ اسمبلی نے 9 مئی کے پُرتشدد واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ کو اس عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن بھی پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کا حصہ بننے جا رہی ہے اور توقع ہے کہ اس حوالے سے جلد پیشرفت سامنے آ جائے گی۔ ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ نون لیگ نے سندھ کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ ن کاحصہ رہنے والے کئی سیاسی خاندان جو پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے جلد مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرینگے اسی طرح جی ڈی اے میں شامل کئی شخصیات بھی ن لیگ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر چکی ہیں جبکہ سندھ کے بعض قوم پرست رہنما بھی ن لیگی لیڈر شپ سے رابطے میں ہیں۔

Back to top button