آڈیو اور ویڈیو لیکس کی سیاست میں تیزی کیوں آنے والی ہے؟

سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا ہے کہ آڈیو اور ویڈیو لیکس کے گرد گھومتی ہوئی پاکستانی سیاست میں مذید شدت آنے والی یے کیونکہ سال 2022 الیکشن کا سال ہو نہ ہو، سیاسی گرما گرمی کا سال ضرور رہے گا۔ ویسے بھی اب سوشل میڈیا کے ذریعے سیاست ہر شخص کے ’بیڈ روم‘ تک پہنچ گئی ہے، جو آئندہ انتخابات میں سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہوگا۔ نہ تو اب کسی کو جلسے کی ضرورت یے اور نہ ہی جلوس کی، اسی لیے بڑی جماعتوں نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو مضبوط بنانا شروع کر دیا ہے، اب کیا سچ ہے کیا ’فیک‘ اسے جاننے کی کسے پرواہ۔ یوں بھی سر بازار آپ نے کسی کی پگڑی اچھال دی وہ تو بیچارا بس وضاحتیں ہی کرتا رہ جائے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ جو سیاست 70 کی دہائی میں ڈرائنگ روم سے نکل کر گلی کوچوں اور میدانوں میں آ گئی تھی، وہ واپس اسی ڈگر پر جا رہی ہے، اب سیاست ایک ’موبائل‘ میسج، ایک آڈیو یا ویڈیو لیک کی مار ہے۔ لہٰذا اب سیاسی جماعتوں کو سیاسی کارکن نہیں بلکہ آئی ٹی کا تجربہ رکھنے والے ماہرین
چاہئیں، یہ کام تحریک انصاف نے 2013 میں خاصے مؤثر انداز میں کیا مگر اب ہر بڑی جماعت اس پر کام کر رہی ہے۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ شاید آپ میں سے بہت سے لوگوں کو یاد ہو کہ چند ماہ پہلے صرف چند گھنٹوں کے لیے واٹس ایپ، انسٹا گرام، فیس بک، ٹک ٹاک وغیرہ کیا بند ہوئے کہ ایسا لگا سیاست پر پابندی لگا دی گئی ہو۔ زندگی ٹھہر سی گئی ہر چند منٹ بعد لوگ چیک کرتے پائے گئے کہ سروس بحال ہوئی کہ نہیں، جب جہاں وزیراعظم سے لے کر ایک عام آدمی تک نیٹ ورک سے جڑا ہو وہاں سروس معطل ہو جانا کسی سزا سے کم نہیں۔
مظہر عباس یاد دلاتے ہیں کہ شہباز شریف نے اپنے دور میں ہزاروں کی تعداد میں ’لیپ ٹاپس‘ تقسیم کئے۔ فائدہ بہرحال اس کا خان صاحب نے اٹھایا کیونکہ ان کا نیٹ ورک زیادہ مضبوط تھا۔ عین ممکن ہے کہ سیاسی جماعتوں کے آئندہ منشور میں مفت موبائل تقسیم کرنے کا وعدہ شامل ہو۔ اب تو نعرہ بھی لگ سکتا ہے ’’کون کرے گا رہنمائی موبائل بھائی موبائل بھائی‘‘۔ اب تو وہ مذہبی جماعتیں بھی سوشل۔میڈیا کی اس دوڑ میں آگے چلتی نظر آتی ہیں جو کل تک ٹی وی کو گناہ سمجھتی تھیں۔ ’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘ اب ان سب کا محرک سوشل نیٹ ورک ہیں، وہ بھی ایک زمانہ تھا جب ’خفیہ والے‘ موٹر سائیکل یا گاڑی پر سیاست دانوں کی نگرانی کرتے تھے اب صرف ان کی ’موبائل لوکیشن‘ کافی ہوتی ہے۔
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اب ایک بات طے ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں سیاست آڈیو یا ویڈیو لیکس کے گرد گھومے گی، یعنی پہلے لیک کرو، جسکے بعد اس پر گرما گرم بحث سوشل میڈیا سے شروع ہو کر مین اسٹریم میڈیا تک پہنچ جائے گی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تک اس لیک کا دوسرا پہلو سامنے آتا ہے، بندہ یا بندی بدنام ہو چکے ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ بھی یے کہ جھوٹ کو سچ سمجھ کر فالو کرنے والوں کی تعداد سچ بولنے والوں سے کہیں زیادہ ہے، پچھلے چند سال میں کئی ’لیکس‘ آئیں، وکی لیکس سے لے کر پانامہ لیکس تک، جنہوں نے عالمی دنیا کی سیاست ہی بدل دی، پاناما سکینڈل آیا تو کئی حکمرانوں کو استعفیٰ دینا پڑ گیا اور کچھ جیل بھی گئے، کچھ نااہل بھی قرار پائے جن میں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی شامل تھے۔ اب پنڈورا لیکس والوں کی تلاش جاری ہے، لیکن لگتا ہے کہ یہ معاملہ ویسا طوفان نہیں لائے گا جیسا کہ پانامہ سکینڈل لایا تھا۔
ایک برس میں وزیراعظم کے اثاثوں میں سو فیصد اضافہ
مظہر عباس کہتے ہیں کہ سال 2021 میں کچھ آڈیو ویڈیو لیکس نے خاصی تباہی مچائی، یہ سلسلہ چیئرمین نیب جاوید اقبال کی نازیبا ویڈیو اور آڈیو لیکس سے شروع ہوا تھا جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف نیب مقدمات تیز رفتاری سے چلنے لگے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ زیادہ تر آڈیو ویڈیو لیکس میں ریٹائرڈ ججز کا نام آ رہا ہے، بات جسٹس ارشد ملک مرحوم کی ویڈیو سے شروع ہو کر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار تک پہنچ گئی ہے، ابھی یہ بحث ختم نہیں ہوئی تھی کہ مریم نواز کی بھی آڈیو لیکس آگئیں۔ اب بات تحقیقات یا کمیشن بنانے کے مطالبوں سے آگے چلی گئی ہے اب تو بس کسی کے بارے میں آپ ایک تاثر میڈیا میں قائم کروا دیں تو مرتے دم تک اس کا نام اس سے جڑا رہے گا۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ زیادہ تر لیک ہونے والی آڈیو اور ویڈیو لیکس عدالتی چارہ جوئی کا حصہ نہیں بنیں، نہ ہی کسی نے اپنے دفاع کے لیے ان کا سہارا لیا، نہ ہی کسی نے انہیں عدالت میں چیلنج کیا۔
بقول مظہر عباس، آڈیو اور ویڈیو لیکس کے گرد گھومتی یہ سیاست نئے سال میں بھی جاری رہے گی، عین ممکن ہے اس میں تیزی آئے، اب فقیرانہ سیاست کا زمانہ نہیں رہا نہ ہی اب وہ صحافت رہی بس کوئی لیک ہاتھ لگ جائے تو کئی دن کی فرصت، سیاست دانوں کے انفرادی بھی اور جماعتوں کے بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک موجود ہیں۔ اب تو جیلوں اور عقوبت خانوں میں بھی سوشل میڈیا موجود ہے، یہاں بیرک میں بیٹھے کرمنلز اپنے ساتھیوں کے ذریعہ کارروائی جاری رکھنے کا کہتے ہیں، اب ہاتھ میں قلم اور نوٹ بک نہیں ہوتی، کیمرے کی جگہ آئی فون نے لے لی ہے، موبائل سے ٹکرز لکھوا دو بس پھر دفتر جانے کے بجائے کینٹین میں بیٹھ کر چائے پیو۔ لہٰذا آج کی سیاست ڈیجیٹل ہو گئی ہے، بس آپ اپنے سامنے کیمرہ رکھیں اور قوم سے خطاب شروع، مگر اس سب میں تھوڑی سی مشکل یہ ہے کہ آپ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ آپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو۔ ’LIKE‘ کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے لہذا یہ آپ کے فالوورز بن گئے ہیں۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف بھی اسی غلط فہمی میں ملک واپس آئے تو صرف چند سو افراد ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ لہذا اب آپ نتائج تسلیم کریں یا نہ کریں یہ تو طے ہے کہ اگلا ’الیکشن ڈیجیٹل‘ ہوگا۔ یعنی پہلے RTS سسٹم بیٹھا تھا اور اب EVM سسٹم آزمائش میں پڑنے والا ہے۔
