خیبر پختونخواہ میں گورنر راج سے PTI کو مظلومیت کارڈ ملنے کا امکان

وفاقی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی نفاذ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے،جبکہ حکومتی حلقوں میں خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کے مضمرات کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ تاہم جہاں ایک طرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے حکومت کو اتحادی جماعتوں جماعتوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے وہیں دوسری جانب مبصرین بھی اس حکومتی تجویز کی مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ختم کر کے گورن راج کے نفاذ کے بعد ایک اور مظلومت کارڈ پی ٹی آئی کے ہاتھ میں آ جائے گا اور وہ اپنی نااہلی، بدعنوانی اور اور کرپشن کو چھپاتے ہوئے نعرے لگاتے پھریں گے کہ اگر ان کی حکومت ختم نہ کی جاتی تو وہ صوبے کی عوام کی حالے بدل دیتے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گنڈاپور سرکار کی نااہلی کی وجہ سے اس وقت خیبرپختونخوا شرپسندوں کے نشانے پر ہے اور صوبے کے کئی علاقے نو گو ویریاز بن چکے ہیں جبکہ صوبائی حکومت عوامی فلاح کے منژوبوں کی بجائے صوبے کے تمام مالی وسائل وفاق کیخلاف لشکر کشی اور سیاسی انتقامی کارروائیوں پر صرف کر رہی ہے۔
تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوپائے گی،کیا کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے سے ملک میں سیاسی استحکام ممکن ہے؟ کیا گورنر راج کے فیصلے سے تحریک انصاف کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟
سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کے مطابق اس وقت خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا آئینی اور قانونی طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔انہوں نے کہاکہ حکومت اگر گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ کرتی ہے تو تحریک انصاف کو اس کا فائدہ ہوگا، کیونکہ وہ سیاسی شہید بن جائیں گے۔
ابصار عالم نے کہاکہ ملکی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج لگا تو وفاقی حکومت کو ہی نقصان اٹھانا پڑا۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ میں اس وقت جھگڑا چل رہا ہے، اگر گورنر راج لگ جاتا ہے تو انہیں جماعت کو اس مسئلے سے نکالنے کا موقع مل جائےگا، اور تحریک انصاف ایک مظلوم جماعت کے طور پر سامنے آئے گی۔ گورنر راج لگانے سے امن و امان کی صورتحال بالکل بہتر نہیں ہوگی، کیونکہ قیام امن کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، ورنہ کسی بھی قسم کا ملٹری یا پیراملٹری آپریشن کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ابصار عالم نے کہاکہ سیاسی طور پر گورنر راج لگانے کے حکومتی فیصلے کو حکومت کی سیاسی ناکامی سمجھا جائے گا،
سینیئر صحافی احمد ولیدکا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت اس وقت گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پورا صوبہ مرکزی حکومت کے خلاف ہوجائےگا، اور یہ کسی بھی صورت وفاقی حکومت اور اداروں کے حق میں نہیں۔
انہوں نے کہاکہ گورنر راج لگانے کے نقصانات ہی ہیں فائدہ کوئی نہیں ہوگا، اس کا سیاسی طور پر پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگنے کی صورت میں وفاقی حکومت کے لیے مسائل بڑھ جائیں گے، اور تحریک انصاف کو مظلوم بننے کا موقع ملے گا۔
سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق اس وقت ملکی حالات بہت الجھ چکے ہیں حکومت کے لیے کوئی بھی فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے، اگر موجودہ صورتحال برقرار رہتی ہے اور علی امین گنڈا پور ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کردیتے ہیں تو حکومت کے لیے مشکلات ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ اس وقت خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے مقابلے میں کوئی سیاسی طاقت موجود نہیں۔ موجودہ صورت حال میں وفاقی حکومت کے پاس اس وقت کوئی آپشن نظر نہیں آرہا۔
مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ ہم اپنی ملکی تاریخ کو مدنظر رکھیں تو یہی کہا جائے گا کہ سیاسی استحکام جیسا بھی ہے اسے چلنے دینا چاہیے، بجائے اس کے کہ وفاقی حکومت کوئی اقدام کرے اور نامناسب صورت حال پیدا ہوجائے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت اگر گورنر راج لگا دیتی ہے تو اس سے احتجاج میں کمی ضرور آئے گی کیونکہ سرکاری وسائل پشت پر نہیں ہوں گے تو پی ٹی آئی کے لیے مسائل ہوں گے۔
سینیئر تجزیہ کار نے کہاکہ اس وقت خیبرپختونخوا حکومت احتجاج کی حوصلہ افزائی کررہی ہے اور اس کو لیڈ کررہی ہے، گورنر راج کی صورت میں احتجاج کرنے والوں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوگی، حکومت کی جانب سے احتجاج کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی جن کو پار کرنا مشکل ہوگا۔ لیکن اس اقدام سے خیبرپختونخوا میں تصادم کی جو کیفیت پیدا ہوگی اسے کنٹرول کرنا زیادہ مشکل ہوگا۔
