محمود اچکزئی اور ناصر عباس کی نامزدگی پر PTI لیڈرز ناراض

 

 

 

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدوں کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کی نامزدگیوں نے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی ناراضی اور مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ محمود خان اچکزئی پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں جبکہ علامہ عباس ناصر مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ ہیں اور ان دونوں کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم عمران خان نے پھر بھی انہیں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عمر ایوب خان  اور شبلی فراز کی نااہلیوں کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا ہے۔

 

پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں عمران خان کی ہدایات موصول ہو گئی ہیں، جن کے مطابق محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں ہمارے اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔ اسی طرح سینیٹ میں ہمارے اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر ہوں گے۔ تاہم تحریک انصاف کے کسی بھی مرکزی لیڈر نے ان فیصلوں کی توثیق نہیں کی۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق مرکزی رہنما اس بات پر رنجیدہ ہیں کہ عمران خان نے اپنی جماعت میں سے کسی کو بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پارٹی کی قیادت دینے کے قابل نہیں سمجھا۔ خیال رہے کہ رواں برس 6 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 9 مئی کے کیسز میں انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے تحریکِ انصاف کے 9 اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز شبلی فراز اور عمر ایوب خان بھی نااہل قرار دیے گئے اراکین پارلیمان میں شامل تھے۔

 

عمر ایوب خان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے۔ اسی طرح سینیٹ میں شبلی فراز اپوزیشن لیڈر تھے۔ ان دونوں کی نااہلی کے بعد یہ دونوں عہدے خالی ہو چکے ہیں۔ ان دونوں ارکانِ پارلیمان کو آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون ایچ کے تحت نااہل قرار دیا گیا جس کے تحت سزا یافتہ شخص پارلیمان کا ممبر نہیں رہ سکتا۔ جب میڈیا کی جانب سے محمود اچکزئی اور علامہ عباس ناصر کی نامزدگیوں پر پی ٹی آئی کے اندر اختلافات بارے پوچھا گیا تو بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہم میں سے کسی کو اس حوالے سے کوئی اعتراض نہیں۔ جب عمران خان کی ہدایات ہمارے پاس آتی ہیں تو ان پر من و عن عمل ہوتا ہے اور کسی قسم کا اعتراض نہیں اٹھایا جاتا۔

 

یاد رہے کہ عمران خان نے ماضی میں محمود اچکزئی کو کرپٹ شخص قرار دیا تھا لیکن اب اسی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرتے ہوئے انہوں نے ایک اور بڑا یوٹرن لیا ہے۔ خان صاحب ماضی میں بطور وزیراعظم اچکزئی کو چادر اوڑھنے پر جوکر قرار دے کر ان کی نقلیں اتارتے رہے ہیں۔ عمران کی جانب سے محمود اچکزئی کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی پرانی ویڈیوز ایک بار پھر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں وہ اچکزئی کے سٹائل میں چادر اوڑھ کر ان کا مذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایسی ہی ایک وائرل ویڈیو میں عمران خا  نے اپنی تقریر میں محمود خان اچکزئی کے چادر اوڑھنے کے انداز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ’جوکر‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ کچھ عرصے کے لیے تو میں بھی اس جوکر کے ہاتھوں پاگل بن گیا تھا اور اس کی عزت کرنے لگا تھا۔ عمران نے الزام عائد کیا کہ اچکزئی ایک کرپٹ شخص ہے جس نے اپنے 8 رشتہ دار کو دھاندلی کے زور پر اسمبلی میں پہنچا دیا اور اپنے بھائی کو گورنر بنوا دیا ہے۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد ناقدین عمران خان کو ڈبل سٹینڈرڈز والا سیاستدان قرار دے رہے ہیں۔

 

دوسری جانب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سنی اتحاد کونسل کے ارکان قومی اسمبلی بلوچستان کے ایک رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن کا امیدوار نامزد کرنے پر حیرت اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس فیصلے سے ان کی صفوں میں پھوٹ پڑنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں چونکہ محمود اچکزئی کے علاوہ ان کی جماعت میں کوئی دوسرا بندہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ نااہل قرار دیے جانے والے عمر ایوب خان تحریک انصاف کے مرکزی لیڈر تھے جبکہ محمود اچکزئی کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ماضی میں عمران خان حکومت کے سب سے بڑے ناقد تھے۔

محموداچکزئی قومی،راجہ ناصرعباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرنامزد

تحریک انصاف کے باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ذیادہ تر ارکان قومی اسمبلی نے نہ صرف محمود خان اچکزئی بلکہ علامہ عباس ناصر کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر میں سپیکر ایاز صادق جب کہ سینیٹ میں چیئرمین یوسف رضا گیلانی کو صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں۔ جب تک ان دونوں ایوانوں کے پریذائیڈنگ افسران یعنی ایاز صادق اور گیلانی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کو اپوزیشن لیڈر کے لئے دستخطوں کے ساتھ اپنے پسندیدہ رکن کی نامزدگی کا نہیں کہا جاتا تب تک کسی نئے اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

 

Back to top button