پی ٹی آئی کااحتجاج ملتوی کرنیکا فیصلہ عمران خان سےملاقات پرمشروط

پاکستان تحریک انصاف نے15اکتوبر کواحتجاج ملتوی کرنےکافیصلہ سابق وزیراعظم عمران خان سےملاقات پرمشروط کردیا۔

گزشتہ رات پی ٹی آئی کورکمیٹی کےاجلاس میں اہم فیصلے کیےگئےجس کی صدارت بیرسٹرسلمان اکرم راجہ نے کی۔

کورکمیٹی کے اہم فیصلے

کور کمیٹی نےفیصلہ کیا کہ14 اکتوبرتک عمران خان سےملاقات کی صورت میں احتجاج ملتوی کردیں گے۔سابق وزیراعظم کی صحت سےمتعلق پریشانی لاحق ہے۔ ڈاکٹر،وکیل یا کسی بھی پارٹی رہنما کی ملاقات کرادی گئی تواحتجاج ملتوی کردیا جائےگا۔

ڈی چوک احتجاج:PTIمیں پھوٹ پڑ گئی،رہنما آپس میں لڑ پڑے

ذرائع کے مطابق کورکمیٹی نےفیصلہ کیا ہےکہ ملاقات نہ کرائی گئی تو15اکتوبر کو بھرپوراحتجاج کیاجائے گا۔

پی ٹی آئی ارکان کی احتجاج ملتوی کرنے کی تجویز

پارٹی کےبعض اراکین نےشنگھائی تعاون تنظیم کےباعث احتجاج ملتوی کرنےکی تجویزدی جبکہ شہبازگل اورخالدخورشید سمیت دیگراراکین نےاحتجاج ملتوی کرنےکی مخالفت کی پارٹی قیادت اورسینیئررہنماؤں نےاحتجاج ملتوی کرنے کی تجویزدی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں10روپےفی لیٹراضافےکاامکان

عمران خان سے ملاقات پرپابندی سازش قرار

ارکان کا کہنا تھاکہ بانی تحریک انصاف عمران خان سےملاقاتوں پرپابندی حکومت کی سوچی سمجھی سازش ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی میں شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کانفرنس کے موقع پر اسلام آباد میں احتجاج کرنے کے معاملے پر پھوٹ پڑگئی۔
سینئر صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی سینیئر لیڈر شپ نے بین الاقوامی کانفرنس کے دوران اسلام آباد میں احتجاج پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی کانفرنس کے موقع پر احتجاج کے مخالف نظر آئے۔ ان کے علاوہ بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، حامد خان، علی محمد خان اور رؤف حسن بھی 15 اکتوبر کو ڈی چوک پر احتجاج کے مخالف ہیں۔
احتجاج کے مخالف رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ 17 اکتوبر کے بعد تو احتجاج کی اجازت مل ہی جائے گی، پارٹی میں فیصلہ سازی پر بانی پی ٹی آئی سے سینیئر لیڈر شپ کو ویٹو پاور دینے کی بات بھی ہونے لگی ہے۔

Back to top button