عمران کو ریلیف، حکومت نے 13 سابق کرکٹ کیپٹنز کو ٹھینگا کیسے دکھایا؟

 

 

 

وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ریلیف کی فراہمی کے مطالبہ کرنے والے 13 سابق کرکٹ کیپٹنز کو ٹھینگا دکھا دیا، حکومت نے سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل سمیت دیگر 13 سابق ٹیسٹ کپتانوں کے عمران خان کو اپنے مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج اور اہل خانہ کے ساتھ ملاقاتوں کی اجازت دینے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ’کپتان ہونا انسان کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا ویسے بھی عمران خان سابق کرکٹ کپتان ہونے کے ساتھ ساتھ اب ایک سرٹیفائیڈ چور ہیں، پاکستانی آئین کے مطابق کسی بھی سزا یافتہ ملزم کو صرف سلیبرٹی یا سابق کپتان ہونے کی وجہ سے رعایت کی کوئی آئینی شق موجود نہیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کے سابق کپتان گریگ چیپل، بھارتی کپتان کپِل دیو اور انگلینڈ کے سابق کیپٹن ناصر حسین سمیت مختلف ممالک کے 13 سابق کیپٹنز نے اپنے ایک مشترکہ خط میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو انسانی بنیادوں پر مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ وہ اپنی مرضی کے ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے علاج کروا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ عمران خان کو اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ قید کی مدت کے دوران ان کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر نہ ہو۔ خط میں زور دیا گیا تھا کہ یہ اقدامات کسی سیاسی موقف یا خصوصی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، مشترکہ خط میں حکومت سے یہ توقع کی گئی تھی کہ سابق کپتان کی حیثیت اور قومی شناخت کے باوجود قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کے دائرے میں ان کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے۔

تاہم حکومت نے سابق کرکٹ کیپٹنز کے عمران خان بارے لکھے گئے خط کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قانون اور نظام اس قدر اچھا ہے کہ یہ خط لکھے جانے سے پہلے ہی عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات دور کر دیے گئے تھے۔ عمران خان کو جیل میں ایسی سہولیات دستیاب ہیں جو کسی بھی ’سزا یافتہ قیدی کو نہیں ملتیں۔ یہ واحد قیدی ہے جسے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مراعات اور سہولیات دی گئی ہیں۔‘ طلال چوہدری نے عمران خان کو ’پاکستان کی تاریخ کا سب سے خوش قسمت قیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو دی گئی سہولیات اور علاج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سابق کپتانوں کے خط پر طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ’بہت اچھا ہوتا اگر کپتان یہ بھی لکھتے کہ جس طرح کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ اور بیٹنگ جرم ہے، اسی طرح اگر کوئی کپتان وزیر اعظم بن جائے تو کرپشن بھی جرم ہے۔ انھیں اس کی بھی مذمت کرنی چاہیے تھی۔‘ سابق کپتانوں نے آدھا خط لکھا ہے، انھیں پوری بات لکھنی چاہیے تھی، تاہم سابق کپتان سمجھ لیں کہ کسی بھی شخص کا کپتان یا سلیبرٹی ہونا اسے قانون سے بالاتر نہیں کرتا۔۔

سابق کرکٹ کیپٹنز کےعمران خان کو ان کی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کروانے کی اجازت دینے کے مطالبے بارے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جیل میں تمام قیدیوں کے ساتھ سلوک قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ دوران قید مرضی والی تو کوئی بات نہیں ہوتی۔ خط لکھنے والے کپتان بتائیں کیا ان کے ملکوں میں قیدیوں کی اپنی مرضی چلتی ہے؟ قیدیوں کے لیے جیل مینوئل ہوتاہے، اسی کے مطابق تمام معاملات طے کئے جاتے ہیں اس کے باوجود عمران خان کو جیل میں خصوصی مراعات اور سہولیات حاصل ہیں جن کا دیگر قیدی تصور بھی نہیں کر سکتے۔ طلال چودھری کا مزید کہنا تھا کہ وہ سابق کپتانوں کی بجائے خود کو صرف پاکستانی قانون کے آگے جوابدہ سمجھتے ہیں اس لئے وہ ان کے کسی خط کا جواب نہیں دینگے، طلال چودھری کا مزید کہنا تھا کہ سابق کرکٹ کیپٹنز کو انسانی حقوق کے نام پر ایک پاکستانی مجرم کی وکالت اور فکر کی بجائے اپنے ملکوں میں انسانی حقوق کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ بعض کپتانوں کے اپنے ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال اتنی اچھی نہیں ہے۔

صدر زرداری اچانک عمران خان کے خلاف کیوں کھڑے ہو گئے؟

دوسری جانب سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل کا کہنا ہے کہ جب انہیں اپنے پرانے دوست اور سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی قید اور صحت کے حوالے سے خدشات کا علم ہوا تو وہ مدد کے لیے فوری طور پر حرکت میں آ گئے۔ انھوں نے سیاسی اختلافات کو بالکل پسِ پشت ڈال کر 13 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں کو اکٹھا کیا، تاکہ عمران خان کو انسانی بنیادوں پر مناسب طبی سہولیات اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دلائی جا سکے، ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ خط کے بعد سامنے آنے والے پاکستانی حکومت کے رد عمل کے باوجود خاموش نہیں رہیں گے بلکہ آئندہ بھی عمران خان کے حق میں آواز اٹھاتے رہیں گے‘

 

Back to top button