زرداری نے مشرف کو صدارت سے نکالنے کے لیے فوج کو کیسے ساتھ ملایا؟

سیاست کے جادوگر کہلانے والے صدر آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مشرف کو صدارت سے نکالنے کے لیے نہ صرف مواخذے کی دھمکی دی بلکہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا جسکے بعد مشرف کا بچنا ناممکن ہو گیا اور اسے استعفے دینا پڑا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے نومبر 2007 میں 8 برس تک حکمرانی کرنے والے پرویز مشرف نے صدر منتخب ہونے کی خاطر آرمی چیف کی وردی اُتار دی تھی اور فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کر دی۔ لیکن اس سے قبل بطور فوجی صدر اُس نے آئین معطل کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی اور چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے ججز کو برطرف کر کے گرفتار کر لیا تھا۔

تاہم وردی اتارنا پرویز مشرف کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی کیونکہ آصف علی زرداری نے انکے مواخذے کا منصوبہ بنا لیا جسے کامیاب بنانے کے لیے انہوں نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی توڑ لیا۔ یہ انکشاف پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سینٹر فرحت اللہ بابر نے اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’’دی زرداری پریزیڈنسی‘‘ میں کیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہونے والے عام انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد مشرف کی چھٹی کروانے کا فیصلہ کیا اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اپنے ساتھ ملالیا۔ اپنی یادداشت میں فرحت اللہ بابر نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ کس طرح مشرف کے جانے کے بعد ایوان صدر کے باہر ٹرپل ون بریگیڈ تعینات کر کے صدر آصف زرداری پر دباؤ ڈالا گیا تاکہ مشرف کے ہاتھوں برطرف ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو انکے عہدے پر بحال کروایا جا سکے۔

فرحت اللہ بابر نے یہ کتاب صدر زرداری کی پہلی صدارتی مدت برائے 2008 تا 2013 بحیثیت صدارتی ترجمان حالات و واقعات کا مشاہدہ کرنے کے بعد لکھی ہے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کو معزول کرنے کے حوالے سے پہلے جنرل اشفاق کیانی کے ممکنہ رد عمل کا اندازہ لگایا۔ جب جنرل کیانی نے صدر مشرف کی چھٹی کے منصوبے کے حوالے سے کوئی اعتراض نہ کیا تو اس کے خلاف مواخذے کی قرارداد لانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ اس کے بعد آصف زرداری نے اپنے بااعتماد پارٹی ارکان کو صوبائی اسمبلیوں میں پرویز مشرف کے مواخذے کا مطالبہ کرنے کی قراردادیں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ میجر جنرل (ر) محمود علی درانی کے ذریعے صدر جنرل پرویز مشرف کو ایک پیغام پہنچایا گیا جس میں موصوف پر زور دیا گیا کہ وہ یا تو عزت بچانے کے لیے مستعفی ہو جائیں یا پھر پارلیمنٹ کے ہاتھوں مواخذے کا سامنا کریں۔ پہلے تو پرویز مشرف رضامند نہ ہوئے لیکن چند ہفتوں بعد جب انہیں پتہ چلا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں تو انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ پارلیمنٹ کے ہاتھوں مواخذے سے بچ سکیں۔

کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نواز شریف نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کے دوران بھی صدارت لینے کے خواہشمند تھے۔ ایک غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے آصف زرداری سے کہا کہ میری پارٹی سمجھتی ہے کہ مجھے صدر بننا چاہئے۔ آصف زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میری پارٹی بھی سمجھتی ہے کہ مجھے صدر بننا چاہئے۔ اسکے بعد یہ بحث وہیں ختم ہو گئی۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کی کتاب 8؍ حصوں پر مشتمل ہے جس کا چوتھا حصہ عدلیہ کے متعلق ہے اور اس میں زرداری کے عدلیہ کے ساتھ تصادم کا احاطہ کیا گیا ہے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق، نہ تو بینظیر بھٹو اور نہ ہی آصف زرداری چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کرنے کے حق میں تھے، آصف علی زرداری کی رائے تھی کہ جسٹس چوہدری عدلیہ کی آڑ میں اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے کام کرتے تھے اور ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ بعد میں آصف علی زرداری کی رائے درست ثابت ہوئی کیونکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں بطور چیف جسٹس بحال ہونے والے افتخار چوہدری نے گیلانی کو ہی وزارت عظمی سے برطرف کروا دیا۔

فرحت اللہ بابر یاد دلاتے ہیں کہ چیف جسٹس افتخار چوہری کی بحالی کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی خاطر نواز شریف نے جو لانگ مارچ شروع کیا تھا اس میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اعتزاز احسن بھی شامل ہو گئے تھے۔ تب تک جنرل مشرف کی چھٹی ہو چکی تھی اور آصف زرداری صدر بن چکے تھے۔ آصف زرداری شروع میں ثابت قدم رہے اور افتخار چوہدری کی بحالی پر آمادہ نہ ہوئے۔

 عمران اور انکے ساتھیوں کی بقا فیض حمید کی بریت سےکیوں جڑی ہے؟

لیکن پھر افتخار چوہدری کو بحال کروانے کی خاطر آخری کارڈ کھیلا گیا اور ایوان صدر کے باہر بریگیڈ ٹرپل ون کے دستے تعینات کر دیے گئے۔ ان دستوں کی تعیناتی کا مقصد بظاہر تو ایوان صدر کی حفاظت کرنا تھا لیکن حقیقی ایجنڈا حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔ ٹرپل ون بریگیڈ ایوان صدر کے اندر اس رات تعینات ہوا جب لانگ مارچ اسلام آباد کے قریب پہنچا۔ فرحت اللہ بابر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس ممکنہ چال کی وجہ سے شاید فوجی قبضے کا تاثر پیدا کیا ہو۔ بالاخر نواز شریف سے مذاکرات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے جسٹس کے افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس کے عہدے پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بعد ازاں افتخار چوہدری نے ثابت کیا کہ وہ اس قابل نہیں تھے کہ انہیں دوبارہ اس عہدے پر تعینات کیا جاتا۔

Back to top button