کوہ پیما ساجد سدپارہ نے ’’کے ٹو‘‘ کی صفائی کیوں کی؟

معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے صاحبزادے ساجد سدپارہ نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹھی ’’کے ٹو‘‘ کو والد صاحب کی آخری آرام گاہ سمجھتے ہوئے اس کی صفائی کا فیصلہ کیا، اور ٹیم کے ساتھ 200 کلو کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے نیچے بیس کیمپ تک لائے۔ساجد سدپارہ نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لگا کر آکسیجن کے کنستروں، ٹوٹے ہوئے خیموں اور کئی دہائیوں سے پھینکی گئی کوہ پیماؤں کی رسیاں صاف کرتے ہوئے آٹھ ہزار 611 میٹر (28,251 فٹ) اونچی چوٹی کو سر کیا، ایک ہفتے کے دوران ان کی پانچ رکنی ٹیم کے ٹو سے تقریبا 200 کلوگرام (400 پاؤنڈ) کچرا اٹھا کر واپس لائی، ساجد کے مطابق یہ ان کے والد اور لیجنڈری کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے لیے خراج عقیدت ہے، یہ اس جگہ کے لیے احترام کا اظہار ہے جہاں وہ فطرت کے ساتھ جڑے ہوئے اور 2021 میں ’وحشی پہاڑ‘ پر باپ بیٹے کی مہم ناکام ہونے کے بعد ان کی لاش موجود ہے۔اے ایف پی کی ٹیم کی کے ٹو تک رہنمائی کرنے والے 48 سالہ کوہ پیما عباس سدپارہ نے کہا کہ ’پاکستان کا نام علی کی وجہ سے بلند ہوا، دو سال قبل ساجد اپنے والد اور دو غیر ملکیوں کے ساتھ موسم سرما کے دوران کے ٹو پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے جب بیماری کے باعث انہیں مجبورا واپس آنا پڑا۔علی سدپارہ اور ان کے ساتھ جانے والے دونوں کوہ پیما بعد میں ’بوٹل نیک‘ کے نیچے جان سے چلے گئے۔ جو چوٹی سے پہلے آخری حصے پر جمی ہوئی سمندری لہر کی طرح دکھائی دیتا ہے، ساجد نے اپنے والد کی آخری رسومات کیمپ فور کے قریب ادا کیں تھیں، انہوں نے 23 سے زائد ایفل ٹاورز کی اونچائی والے اس پہاڑ پر موجود ان باقیات کو دفن کرنے سے پہلے اس جگہ پر جی پی ایس کوآرڈینیٹس کے ساتھ نشان لگائے۔ساجد اس فطری دنیا کی غیر معمولی تعریف بیان کرتے ہیں جسے ان کے والد نے انہیں سونپ دیا تھا، یہاں یہ سادہ زندگی اور یہ قدرتی زندگی گزارتے ہیں، یہ سارا گاوں میری دنیا تھا، میں سب سے زیادہ فطرت سے اس میں جڑا ہوا ہوں، ہم صرف ذہنی سکون کے لیے پہاڑوں پر رہنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم کوئی کچرا دیکھتے ہیں تو احساس بالکل مختلف ہوتا ہے، کے ٹو اب اتنا خوبصورت نہیں رہا جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اس کی خوبصورتی کو تباہ کر دیا ہے۔2019 میں زمین کے سب سے گہرے مقام ماریانا ٹرینچ میں سمندر سے 11 کلومیٹر نیچے پلاسٹک کا کچرا دریافت ہوا تھا، تجارتی مقاصد کے لیے پہاڑی سیاحت کی وجہ سے سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بلند چوٹیوں تک پہنچ رہی ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ بھی کوڑے کرکٹ کے بڑے ڈھیروں کے باعث بدنام ہو رہا ہے، ’’کے ٹو‘‘ پر گذشتہ سیزن میں چوٹیاں سر کرنے والے ریکارڈ 150 سیاح آئے تھے جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی کوہ پیماؤں کی جانب سے کچرا چھوڑنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ایل پی جی کی قیمت میں مزید 10 روپے فی کلو اضافہ

Back to top button