سرداری نظام کے مخالف سرفراز بگٹی خود قبیلے کے سردار بن گئے

 

ماضی میں سرداری نظام اور نواب اکبر بگٹی کی قبائلی اجارہ داری کے خلاف کھڑے ہونے والے موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی ایک بڑا یوٹرن لیتے ہوئے خود بگتی قبیلے کے سربراہ بن گئے ہیں۔ اگلے روز ڈیرہ بگٹی میں ہونے والی دستار بندی کی تقریب کے بعد وہ صوبے کے وزیراعلیٰ ہونے کے علاوہ اب ’چیف آف بگٹی‘ کے منصب پر بھی فائز ہو گے، جسے مبصرین طاقت، سیاست اور قبائلی نظام کے غیرمعمولی امتزاج سے تعبیر کر رہے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ میں منعقدہ دستار بندی کی تقریب میں قبائلی روایات کے مطابق پہلے پیر سوری دربار کے پیر نے سرفراز بگٹی کو دستار پہنائی، جس کے بعد بگٹی قبیلے کی بڑی شاخوں کلپر، پیروزانی، نوتھانی، شمبانی، مندرانی اور ڈومب کے وڈیروں نے باری باری پگڑی باندھی۔ تقریب میں بلوچستان کابینہ و اسمبلی کے ارکان، پنجاب اسمبلی کے رکن حنیف پتافی اور بلوچستان، سندھ و پنجاب کے متعدد بلوچ قبائل کے عمائدین نے شرکت کی۔ قبائلی روایت کے مطابق بگٹی قبیلے میں نواب کا تعلق راہیجہ شاخ جبکہ ’چیف آف بگٹی‘ کا منصب مسوری شاخ کے پاس رہا ہے۔ سرفراز بگٹی کا تعلق بھی مسوری شاخ سے ہے، تاہم اس شاخ کے سابق سربراہ محمد شریف بگٹی کی وفات کے بعد موروثی طور پر ان کے بیٹے کو جانشین ہونا تھا۔ اس روایت کے برعکس سرفراز بگٹی کا انتخاب ایک غیرروایتی اور غیرمعمولی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ وزیراعلیٰ کے منصب اور طاقتور ریاستی اداروں سے قربت کو قرار دیا جا رہا ہے۔

کوئٹہ کے سینیئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کے مطابق، یہ فیصلہ سرداری نظام کی مروجہ روایت سے انحراف ہے۔ ماضی میں جانشینی اجتماعی مشاورت یا موروثیت کے تحت ہوتی تھی، مگر اس بار طاقت کے توازن نے قبائلی صف بندی کو متاثر کیا ہے۔ سرفراز بگٹی کا یہ یوٹرن اس لیے بھی نمایاں ہے کہ وہ اور ان کے والد وڈیرہ غلام قادر مسوری برسوں سرداری نظام کے سخت ناقد رہے۔ سرفراز بگٹی ماضی میں سرداری نظام کو غلامی سے تشبیہ دیتے رہے اور خود تسلیم کر چکے ہیں کہ ان کے والد نے 30 سے 40 برس تک نواب اکبر بگٹی کے خلاف جدوجہد کی۔ 1988 میں ان کے والد نے نواب اکبر بگٹی کے خلاف الیکشن لڑا، جسے قبائلی تاریخ میں ایک جرات مندانہ قدم سمجھا جاتا ہے۔

اگست 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی شہادت سے دو روز قبل ڈیرہ بگٹی میں نوابی و سرداری نظام کے خاتمے کے لیے ہونے والے اجتماع کی حمایت بھی سرفراز بگٹی کے خاندان نے کی تھی، تاہم دو دہائیوں بعد خود سرفراز بگٹی اسی نظام کا مرکزی کردار بن چکے ہیں۔ یاد ریے کہ نواب اکبر بگٹی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے سخت مخالف تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں گیس رائلٹی، چھاؤنیوں کے قیام اور صوبائی خودمختاری جیسے معاملات پر ان کا ٹکراؤ شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں اگست 2006 میں ایک پہاڑی علاقے میں ہونے والی فوجی کارروائی کے دوران وہ مارے گئے۔ ان کی موت کو بلوچستان کی سیاست کا ایک فیصلہ کن موڑ سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سرفراز بگٹی نے اکبر بگتی کے انجام سے ایک مختلف سبق سیکھا۔ انہوں نے مزاحمت کے بجائے ریاستی اداروں کے ساتھ چلنے کی حکمتِ عملی اپنائی، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف صوبائی سیاست میں ابھرے بلکہ پہلے وزیراعلیٰ اور اب قبائلی سربراہ بھی بن گئے۔ کوئٹہ کے صحافی عرفان سعید کے مطابق، سرفراز بگٹی نے ایک سمجھدار سیاستدان کی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اپنائے گئے ریاستی بیانیے کی کھل کر حمایت کی، جس سے انہیں عسکری قربت اور سیاسی تقویت ملی۔

یاد رہے کہ سرفراز بگٹی نے 2013 میں آزاد حیثیت سے بلوچستان اسمبلی میں قدم رکھا، بعدازاں ن لیگ کے صوبائی وزیر داخلہ بنے اور قومی میڈیا میں سخت گیر ریاستی موقف کے ساتھ نمایاں رہے۔ 2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی کی تشکیل، دو بار سینیٹر بننا، نگراں وفاقی وزیر داخلہ اور پھر 2024 میں بلامقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہونا ان کے سیاسی سفر کے اہم سنگ میل ہیں۔ اس وقت وہ پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں لیکن صدر آصف زرداری انہیں زیادہ پسند نہیں کرتے جس کی بنیادی وجہ ان کی اسٹیبلشمینٹ سے ضرورت سے زیادہ قربت ہے۔

نواب اکبر بگٹی کے خاندان میں تقسیم، نواب عالی بگٹی کی غیر فعالیت اور براہمداغ بگٹی کی بیرونِ ملک موجودگی نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس میں سرفراز بگٹی نے ریاستی حمایت اور قبائلی مفاہمت کے ذریعے اپنی جگہ بنائی۔ مبصرین کے مطابق اب ’چیف آف بگٹی‘ کا منصب ان کی قبائلی اور سیاسی طاقت میں مزید اضافہ کرے گا۔ اس دوران سوشل میڈیا پر شریف بگٹی کے بیٹے سے منسوب آڈیو، نواب خاندان کے بعض افراد کی مخالفت اور سرداری ٹیکس جیسے معاملات نے تنازعات کو بھی جنم دیا ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سرفراز بگٹی قبائلی نظام کو اصلاحات کے ذریعے بدلیں گے یا اسے طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کریں گے؟ بعض حلقوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آیا ان کا اگلا قدم نوابی کے ٹائٹل کی طرف ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرفراز بگٹی کی بطور ’چیف آف بگٹی‘ دستار بندی محض ایک قبائلی تقریب نہیں بلکہ بلوچستان کی سیاست، ریاستی حکمتِ عملی اور سرداری نظام کے بدلتے کردار کی علامت ہے۔ فرسودہ سرداری نظام کے خلاف جدوجہد سے لے کر اسی نظام کا اہم ستون بننے تک کا سرفراز بگٹی کا سفر ایک ایسے یوٹرن کی روشن مثال ہے جو آنے والے برسوں میں نہ صرف ڈیرہ بگٹی بلکہ بلوچستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

Back to top button