پاکستان سویلینز نے چلانا ہے یا جرنیلوں نے، فیصلہ کیوں نہیں ہو پا رہا؟

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ 1947 میں اپنے قیام کے بعد سے ہی جناح کا بنایا ہوا پاکستان ایک بھنور یا گھمن گھیری میں پھنسا ہوا ہے۔ بظاہر پاکستان ایک جمہوری ملک ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک یہ طے نہیں ہو پایا کہ یہاں سویلین بالادستی قائم ہونی ہے یا اسے جرنیلوں اور ججوں نے چلانا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس اہم ترین سوال کے ماضی میں دو جواب دیئے گئے ہیں، ایک جواب یہ ہے کہ سویلینز کی بالادستی صرف اور صرف جدوجہد یا بغاوت کے نتیجے میں حاصل ہو سکتی ہے، ہمیں تاریخ سے دوسرا جواب یہ ملتا ہے کہ سویلینز کی بالادستی بغاوت کے نتیجے میں قائم نہیں ہو سکتی کیونکہ طاقتور اس قدر مظبوط ہوتے ہیں کہ وہ ایسی کوشش کو باآسانی سے کچل دیتے ہیں، لہٰذا سویلین بالادستی قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نظام کے اندر رہا جائے اور آہستہ آہستہ کارکردگی اور دانش دکھاتے ہوئے اپنی سپیس بڑھائی جائے۔

سینیئر صحافی کے مطابق اگر آج کا سیاسی نظام دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ دوسرے فارمولے کے مطابق چل رہا ہے۔ اس وقت حکومت میں شامل سیاسی عناصر کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جب وہ کارکردگی دکھائیں گے تو انکی سپیس بڑھتی جائے گی اور وہ ریاست میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ سیاسی عناصر کی اس خوش فہمی کی اکثر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، لیکن فی الحال طاقتور ادارے اور حکومت کے اتحادی سیاسی عناصر کے پاس مل کر چلنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ان دونوں کی مشترکہ سیاسی مخالف تحریک انصاف انہیں مجبور کرتی ہے کہ وُہ اکٹھے مل کر چلیں لہٰذا وہ اکٹھے چل رہے ہیں۔

لیکن سہیل وڑائچ کے مطابق دونوں طرف دباؤ ہے، کھینچا تانی جاری ہے اور موجودہ سیٹ اپ میں شامل سیاسی اور غیر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کے باوجود دل ہی دل میں ایک دوسرے کی کمزوریوں پر نالاں رہتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے، دو اندرونی جنگیں مسلسل جاری ہیں، یہ جنگیں آزادی اور مساوات کی ہیں۔ بدقسمتی سے جہاں آزادی ملتی ہے وہاں معاشی مساوات نہیں ہوتی اور اگر کہیں معاشی مساوات کا نظام قائم ہو بھی جائے تو وہاں آزادی معدوم ہو جاتی ہے۔

سینیئر صحافی کے مطابق پاکستان میں بھی آزادی کی جنگ جاری ہے لہٰذا معاشی مساوات کے مسائل بھی اسی طرح سے موجود ہیں جیسے پہلے دن سے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد بانی محمد علی جناح نے پارلیمانی جمہوری نظام اور سویلین بالادستی کے حوالے سے واضح پیغام دیا تھا، مگر 1948 کی پاک بھارت جنگ نے ملک کی سمت بدل دی، پاکستان نے بننا تو ایک فلاحی جمہوری ریاست تھا لیکن اپنے بچاؤ کی خاطر اسے سیکورٹی سٹیٹ بنا دیا گیا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک سیکورٹی سٹیٹ میں سویلین بالادستی ہر وقت خطرے میں رہتی ہے کیونکہ ریاست اپنی سیکورٹی کے حوالے سے اس قدر حساس ہوتی ہے کہ اسے سویلینز سے یہ خوف رہتا ہے کہ وہ قومی مفاد کی حفاظت کرتے ہوئے کسی کوتاہی کے مرتکب نہ ہو جائیں۔ اس لئے سیکورٹی ریاست زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیار اپنے پاس رکھتی ہے تاکہ ریاست کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھ سکے۔

لیکن اس پالیسی کے نتیجے میں عوام لاتعلق ہو جاتے ہیں، پارلیمان کو اختیارات نہیں ملتے، جرنیل اور جج یا پھر دونوں آمرانہ شخصیات اتنی طاقتور ہو جاتی ہیں کہ ان کے سیاسی فیصلوں سے لوگ مایوس ہو جاتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کی جانب سے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر اسی تضاداتی گھمن گھیری کو ظاہر کرتے ہیں۔ اداروں کا نقطہ نظر ہے کہ سینیٹر اعجاز چوہدری 9 مئی کو لاہور میں فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے مرکزی کردار ہیں جبکہ چیئرمین سینٹ کی رائے میں گرفتار سینیٹر کو ایوان میں بلانا چیئرمین کا پارلیمانی اختیار ہے۔ اس تضاد سے سول اور فوجی سوچ میں فرق بھی ظاہر ہوتا ہے اور سویلین بالادستی کی راہ میں ان گنت رکاوٹوں کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے۔

سینیئر صحافی کے مطابق کہنے والے کہتے ہیں کہ 9 مئی کے واقعے میں گرفتار کئی مرد و زن چھوڑے جا چکے ہیں لہذا ایک سینیٹر کی ایوان میں حاضری سے کیا فرق پڑ جائے گا۔ ایوان سے نکلنے کے بعد اس نے دوبارہ جیل ہی جانا ہے لہٰذا چاہے دکھاوے کیلئے ہی سہی، کم از کم اتنی سویلین بالادستی تو مان لی جائے، لیکن دوسری طرف طاقتور حلقوں کا کہنا ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملوں کے ملزم کو جیل سے نکالنا ریاست کے لیے باغیوں کے خلاف سرنڈر کرنے کے مترادف ہو گا۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پچھلے چند برسوں سے پاکستان مصیبت اور سیاست کی جس گھمن گھیری میں پھنسا ہوا ہے اس میں بنیادی نکتہ بہرحال سویلین بالادستی پر عائد کردہ حدود کا ہے۔ پاکستان کو دنیا سے سیکھ کر چلنا چاہئے۔ دنیا کے ہر ملک کو اپنی سیکورٹی کی فکر ہوتی ہے امریکہ اور برطانیہ جیسے جمہوری ممالک میں بھی دفاعی ادارے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ سویلین بالادستی سے چلنے والے ممالک سیکورٹی ریاستوں کی نسبت زیادہ خوشحال، زیادہ آزاد اور زیادہ مطمئن ہیں۔ ہمیں بھی بتدریج اپنے غیر سیاسی اداروں کا کردار محدود کرنا چاہئے، ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ نیوکلیئر ریاست اور اسکے طاقتور اداروں پر اغیار کی بری نظریں ہیں۔ یہ ادارے ریاست کے لئے ہیرے ہیں اور ہیروں کو چھپا کر رکھنا ہی انکی حفاظت کو یقینی بناتا ہے ۔ریاست کو اپنے ہیروں کو پبلک نہیں کرنا چاہئے، ہمارے ادارے بھی پینٹاگون کی طرح ریاست کو مشورے دیں لیکن فیصلے سویلینز سے کرائیں کیونکہ دنیا میں یہی چلن کامیاب ہوا ہے۔

اگر اقتدار فوج کا ہے تو ناکامیاں حکومتی کھاتے میں کیوں پڑ رہی ہیں؟

سینیئر صحافی کا اصرار ہے کہ سیاسی گھمن گھیری کی مضبوط گانٹھوں کو کھولنے کے لئے اہل سیاست کا کردار بھی اہم ہے، اگر وہ اسی طرح غیرسنجیدگی سے منتخب ایوانوں کی کارروائیاں چلائیں گے اور مصالحت نہیں ہونے دینگے تو سویلین بالادستی کے خواب کی تعبیر سرے سے ممکن ہی نہیں ہو گی۔ اگر ہمیں پاکستان کو جمہوری ٹریک پر چلانا ہے اور گھمن گھیریوں سے نکالنا ہے تو ہم سب کو اپنے دل بڑے کرنے ہوں گے، اپنے رویوں میں لچک پیدا کرنی ہوگی، ہمیں ماضی کی غلطیوں کی معافی مانگنی ہو گی اور مستقبل میں جمہوری آزادیوں کی ٹھوس ضمانت دینا ہو گی۔ جب تک ہمارے سیاست دان مصالحتی فارمولے تک نہیں پہنچتے، نہ تو پاکستان میں کوئی جمہوریت مستقل رہے گی اور نہ ہی سویلین بالادستی کی طرف سفر شروع ہو سکے گا۔ اب وقت آ گیا کہ ہم سب اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کریں۔

Back to top button