کیا وحشی اسرائیل کے ابا ٹرمپ کو نوبیل امن انعام ملنا چاہیئے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے لاکھوں فلسطینیوں کا قتل عام کرنے والے وحشی صفت اسرائیل کے کٹر اتحادی امریکی صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنا افسوسناک عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا کے دو ہی ممالک نے ٹرمپ کے لیے نوبیل امن انعام کی سفارش کی ہے جن میں پہلا پاکستان ہے اور دوسرا اسرائیل۔
14 اگست کو حکومت پاکستان کی جانب سے معرکہ حق میں شاندار صحافتی خدمات ادا کرنے پر سرکاری اعزاز پانے والے سلیم صحافی روزنامہ جنگ میں لکھتے ہیں کہ ٹرمپ کی نوبیل انعام پانے کی خواہش اپنی جگہ لیک ایسے شخص کو امن کا نوبیل انعام دینا جو ہر معاملے میں اسرائیل جیسے فاشسٹ ملک کا ہمنوا ہو، خود اس نوبل پرائز انعام کی توہین ہو گی۔ ٹرمپ کو اگر واقعی امن کا نوبل انعام چاہیے تو وہ غزہ میں مستقل جنگ بندی کراتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کا ایسا آبرومندانہ حل نکالیں جو سب کیلئے قابلِ قبول ہو، اسکے بعد ہی وہ خود کو اس انعام کا حق دار گردان سکتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے قضیے کے مستقل حل کی طرف متوجہ ہوں۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے طاقتور ترین صدر بن گئے۔ لیکن خواہشیں کب پوری ہوتی ہیں۔ اب ان کی آرزو ہے کہ انہیں امن کا نوبیل پرائز ملے اور دنیا انہیں ایک نجات دہندہ کے طور پر یاد کرے۔ اسی خواہش کی خاطر انہوں نے پاک بھارت جنگ رکوائی۔ اسی آرزو نے انہیں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی جنگ میں مداخلت اور جنگ رکوانے پر مجبور کیا۔ اسی تسلسل میں انہوں نے آرمینیا اور آذربائیجان کا امن معاہدہ کروایا اور یہی آرزو لیکر وہ اب روس اور یوکرائن کی جنگ بند کروانیکی کوشش کررہے ہیں۔ ٹرمپ کے لیے نوبیل انعام کی سفارش پہلے پاکستان نے کی، اس کے بعد اسرائیل میدان میں آیا اور اب کمبوڈیا، آرمینیا اور آذربائیجان بھی ایسا ہی کرنے جا رہے ہیں۔
صافی کے بقول صدر ٹرمپ وہ سیماب صفت شخصیت ہیں جو لمحوں میں دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست ڈکلیئر کر دیتے ہیں، یوں اگر وہ غلط جانب جا نکلتے تو دنیا میں کسی بھی بڑے فساد کا موجب بھی بن سکتے تھے۔ وہ پہلوانوں کی طرح ملکوں کو بھی لڑوا سکتے تھے۔ اس تناظر میں اللہ کا شکر ہے کہ انکے ذہن پر امن کا نوبیل پرائز لینے کا جنون سوار ہو گیا۔ پاکستان اور انڈیا کی جنگ میں انڈیا کو شکست ہورہی تھی اسلئے یہاں جنگ بندی کروانا نسبتاَ آسان تھا۔ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ چھوٹے ممالک ہیں اور ان کا تنازع اتنا گہرا نہیں تھا اسلئے انکی جنگ بندی آسان تھی۔ آذربائیجان اور آرمینیا بھی تنازعے کی طوالت سے تنگ آچکے تھے اور انہیں ایک میز پر لانے میں ٹرمپ کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی، لیکن روس اور یوکرائن کا مسئلہ حل کرنا اتنا آسان نہیں اور باوجود ذاتی تعلق کے وہ روسی صدر پیوٹن کو آسانی سے رام نہیں کرسکتے۔ دوسری طرف یوکرائن کا موقف بھی سخت ہے اور اسے یورپی یونین کی حمایت بھی حاصل ہے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ یہ تو وہ چیزیں ہیں جو انہیں نوبیل پرائز کی منزل کی جانب لے جاتی ہیں لیکن نیتن یاہو یا اسرائیل کی حمایت ٹرمپ کی یہ منزل دور کررہی ہے۔ اسرائیل اس وقت فلسطین میں مظالم کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ وہ فلسطینیوں کی ایسی نسل کشی کر رہا ہے کہ خود اسرائیل کے عوام اس ظلم پر شرمندہ ہیں۔ غزہ کو کھنڈرات بنا دیا گیا ہے۔ معصوم بچے تو کیا صحافی بھی بھوک اور پیاس سے مرنے لگے ہیں۔ نیتن یاہو نہ عالمی برادری کی سن رہا ہے، نہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے نے اس کے فیصلوں پر کوئی اثر ڈالا، نہ اقوام متحدہ اور ریڈکراس کی اپیلوں سے اسکے کان پر جوں تک رینگی ۔ بس وحشت اور ظلم اسکے ذہن پر سوار ہے اور انتہائی سفاکیت سے مظلوم فلسطینیوں کا صفایا کرنے میں مگن ہے ۔
ترلےاورمنت کے بعدشیخ وقاص اکرم کی نااہلی روک دی گئی
صافی کہتے ہیں کہ ٹرمپ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود نیتن یاہو کو جنگ بندی پر نہیں منا سکا، لیکن اس کے باوجود ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ویسے ناراضی کا اظہار نہیں کیا جس طرح انڈیا سے کیا ہے اور اس پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ امریکہ کل بھی نیتن یاہو کے ساتھ تھا اور آج بھی ہے ۔ وہ کل بھی اسرائیل کا سرپرست تھا اور آج بھی ہے۔ وہ اسرائیل کو امداد بھی دے رہا ہے اور ہتھیار بھی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اسرائیل کی اس ساری چوہدراہٹ کی وجہ امریکہ ہے اور اگر امریکہ کا ساتھ نہ ہوتا تو اسرائیل نہ ماضی کی فتوحات حاصل کرسکتا تھا اور نہ اب غزہ پر یہ مظالم ڈھاسکتا تھا۔
سلیم صحافی کا کہنا ہے کہ ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ لاکھ کوشش کریں لیکن نیتن یاہو جیسے وحشی کی سرپرستی کرنیوالے کو کیوں کر امن کا نوبل انعام دیا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے کوشش کی لیکن اسرائیل نہیں مانا، تاہم انکے اس عذر کو قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ اگر نیتن یاہو نے ان کی بات نہیں مانی تو پھر انہوں نے اس کی سرپرستی کیوں جاری رکھی؟ غزہ کے بارے میں خود ٹرمپ کے بیانات نہایت سفاکانہ تھے۔ اس کے ولاوہ ایران پر حملے میں امریکہ نے خود شریک ہو کر اسرائیل کو سپورٹ کیا۔ گویا ٹرمپ لاکھ چاہیں، اسرائیل سے اپنے آپکو لاتعلق نہیں کرسکتے۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ جب تک صدر ٹرمپ اسرائیل کی سرپرستی جاری رکھتے ہیں، انہیں امن کے نوبیل انعام نہیں مل سکتا۔ اگر اسرائیل کی سرپرستی کے باوجود ان کو امن کا نوبیل انعام دیا گیا تو اس سے خود اس انعام کی حیثیت مجروح ہوگی اور لوگ اسے ایک مذاق سمجھیں گے۔ صدر ٹرمپ اگر واقعی اگر خود کو امن کے نوبیل انعام کا حقدار ثابت کرنا چاہتے ہیں تو پہلی فرصت میں فلسطین اور اسرائیل کے قضیے کی طرف متوجہ ہوں۔ روس اور یوکرائن کی جنگ میں مہینے میں اتنے انسان نہیں مرتے جتنے غزہ میں ایک دن میں مرتے ہیں۔ قضیے کے حل کیلئے نیتن یاہو جو فارمولے پیش کرتا ہے وہ مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ خود اسرائیل کے لوگ اسے ناقابل عمل قرار دیتے ہیں۔ اسلئے ٹرمپ کو اسرائیل پر بھرپور دباؤ ڈالنا ہوگا اور ایک ایسے فارمولے پر فریقین کو آمادہ کرنا ہوگا جو فلسطینیوں کو بھی عزت کے ساتھ امن اور آزادی کے ساتھ جینے کا حق دے۔
