حکومت کا منی بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

صدر مملکت عارف علوی کے انکار کے بعد حکومت نے منی بجٹ آرڈیننس کے ذریعے نہ لانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب ضمنی فنانس بل قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس بلا کر منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فنانس بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، وفاقی کابینہ نے فنانس بل کی منظوری دے دی ہے۔  پارلیمنٹ کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا ہے۔اس پیش رفت کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس بھی منسوخ کردی گئی ہے، وزیر خزانہ کی پریس کانفرنس آج رات 9:25  پر شیڈول تھی۔

باخبرذرائع کا کہنا ہے کہ فنانس بل پہلے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کو بھجوایا جائے گا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں بل پرسفارشات دیں گی، قواعدکے مطابق کمیٹیوں کی سفارشات پر عمل درآمد کرنا یا نہ کرنا پارلیمنٹ کی صوابدید ہے، جمعرات کی صبح تک دونوں ایوانوں کی کمیٹیوں سے فنانس بل کی منظوری کا امکان ہے، جمعرات کو  قومی اسمبلی اور سینیٹ سےفنانس بل کی منظوری دی جائےگی، جمعرات کی شام کو ہی بل صدر مملکت کو دستخط کیلئے بھجوا دیا جائےگا۔

ذرائع کے مطابق فنانس کی فوری منظوری کی وجہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے، فنانس بل کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدے کی راہ میں حال رکاوٹیں دور ہوجائیں گی، فنانس بل میں 170 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔

قبل ازیں صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے آئی ایم ایف کی شرائط پر بنائے جانے والے منی بجٹ آرڈنینس کو فوری طور پرمنظور کرنے سے انکار کر دیا جبکہ صدر کے انکار کے بعد وفاقی حکومت نے بھی سر جوڑلئے ہیں۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار  نےصدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی  تھی،جس میں وزیر خزانہ نے صدر مملکت کو آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور معاہدے پر بریفنگ دی، جس پر صدر مملکت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر مذاکرات کیلئے حکومتی کوششوں کو سراہا۔

صدر مملکت نے کہا کہ ریاست ِپاکستان حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر قائم رہے گی۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط اور معاہدے کو پورا کرنے کیلیے حکومت ایک آرڈیننس جاری کرکے ٹیکسوں کے ذریعے اضافی ریونیو اکٹھا کرنا چاہتی ہے،صدر مملکت نے اضافی ٹیکس نافذ کرنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے مالیاتی آرڈیننس کو فوری طور پر منظور کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو جواب دیا کہ مالیاتی بل کوقومی اسمبلی سے منظور کرائیں، اس اہم موضوع پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا زیادہ مناسب ہوگا، پارلیمنٹ کا سیشن فوری طور پر بلایا جائے تاکہ بل کو بلاتاخیر قانون بنایاجاسکے۔

باخبرذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آئی ایم ایف سے طے پانے والی ریونیو اقدامات کو صدارتی آرڈنینس کے ذریعے نافذ کرنا چاہتی تھی، صدرمملکت کے واضح انکار کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس بلا کر بل منظور کرایا جائے گا۔

دوسری جانب منی بجٹ پر آرڈیننس جاری کرنے کے معاملے پر صدر کے انکار کے بعد وفاقی حکومت سر جوڑ کر بیٹھ گئی۔آرڈیننس کے معاملے پر حکمت عملی طے کرنے کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ، وزیر اعظم شہباز شریف کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 5 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا  گیا۔

واضح رہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے اور ریونیو بڑھانے کیلیے ترمیمی آرڈیننس تیار کیا، جس کے تحت مجموعی طور پر 200 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا جائے گا۔ آرڈیننس کے تحت بینکوں میں ٹرانزیکشن پرنان فائلرز پر 0.60 فیصد ٹیکس عائد کی جائے گی جبکہ بینکوں کے فارن ایکسچینج سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے اور شوگر ڈرنکس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے، ایک ہزار سگریٹ پر ٹیکس میں 200 روپے سے چار سو روپے تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے،حکومت نے کابینہ کی منظوری کے بعد آرڈیننس کو منظوری کیلیے صدر مملکت کو بھیجا تھا۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے قرض کے آٹھویں پروگرام کیلیے پاکستان کو گیس، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ٹیکس ریونیو بڑھانے کی شرط عائد کی ہے۔

مشروم میں دماغی صحت اور یادداشت بڑھانے والا جزو دریافت

Related Articles

Back to top button