مفت بجلی سے عیاشیاں کرنے والے حکومتی عہدیدار کون؟

بجلی بلوں میں اچانک ہوشربا اضافے کے بعد سے عوام کا ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور مختلف مقامات میں اجتماعی طور پر بجلی بلوں کو جلایا بھی گیا ہے اور مظاہرین کی جانب سے واپڈا ملازمین اور دیگر اہم سیاسی شخصیات کو مفت بجلی کی فراہمی فی الفور بندکرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کون سا ادارہ اور کون سے ریاستی عہدیدار مفت بجلی اڑا رہے ہیں۔ وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وزیراعظم، صدر، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز، وفاقی وزرا، چیئرمین نیب ، گورنر اسٹیٹ بینک، سینیئر بیوروکریٹ اور سرکاری عہدوں پر فائز اعلیٰ افسران ماہانہ کروڑوں یونٹ بجلی مفت میں استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت کی تنخواہ اور دیگر مراعات سے متعلق ایکٹ President’s Salary, Allowances and Privileges Act 1975 کے مطابق صدر کو لامحدود بجلی یونٹس فراہم کیے جائیں گے جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی صدر ماہانہ 2000 یونٹس مفت استعمال کرسکیں گے۔

صدر کے انتقال کے بعد صدر کی زوجہ کو بھی بجلی کے 2000 یونٹس مفت فراہم کیے جائیں گے جبکہ وزیراعظم پاکستان کو بھی لامحدود مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے ججز کو ملنے والی مراعات کا ہر دور میں تذکرہ رہتا ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کو دوران ملازمت 2000 بجلی یونٹ استعمال کرنے کا اختیار ہے جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان ججز کو 2000 یونٹس ہی بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو بھی ماہانہ 800 بجلی یونٹ مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔

عوامی تصور یہ ہے کہ وفاقی وزرا کو اور ارکان اسمبلی کو بھی بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وفاقی وزرا کو ماہانہ تمام یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کے لیے 22 ہزار روپے تنخواہ میں ہی ادا کیے جاتے ہیں جبکہ ارکان اسمبلی کو کسی بھی یوٹیلیٹی کے لیے کوئی بھی رقم ادا نہیں کی جاتی حتی کہ رکن قومی اسمبلی اپنی سرکاری رہائش گاہ ’پارلیمنٹ لاجز‘ میں بھی اپنے بجلی کے بل خود ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح سینیئر بیوروکریٹس بھی اپنے بجلی کے بل خود ادا کرتے ہیں۔

چیئرمین نیب کو بھی سپریم کورٹ کے ججز کے مساوی بجلی یونٹس مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہیں ماہانہ 2000 یونٹس بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے۔ دیگر اداروں کی طرح گورنر اسٹیٹ بینک کو لامحدود بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے اور اس کی رقم اسٹیٹ بینک ادا کرتا ہے۔ سرکاری اداروں کے افسران کو بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے تاہم ادارہ اس بل کی رقم واپڈا کو ادا کر دیتا ہے۔

دوسری جانب واپڈا ملازمین اور بجلی پیدا کرنے اور ترسیل کا کام کرنے والوں کو بھاری یونٹس مفت میں فراہم کیے جاتے ہیں۔وزارت توانائی کی جانب سے سینیٹ کمیٹی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق ایک لاکھ 89 ہزار واپڈا ملازمین کو ایک سال میں بجلی کے 34 کروڑ یونٹ مفت فراہم کیے گئے اس طرح انہوں نے 8 ارب روپے کی بجلی مفت استعمال کی۔

واپڈا میں کام کرنے والے افسران کو 16ویں اسکیل کے بعد سے ہی مفت بجلی یونٹ فراہم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ 16ویں اسکیل والے افسر کو ماہانہ 300 یونٹ، 17ویں اسکیل والے کو ماہانہ 450 یونٹ، 18 ویں اسکیل والے کو 600 یونٹ، 19ویں اسکیل والے کو ماہانہ 880 یونٹ، 20ویں اسکیل والے کو 1100 یونٹ جبکہ 21ویں اور 22ویں اسکیل والے واپڈا افسر کو ماہانہ 1300 بجلی یونٹ مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ تمام افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مفت

وفاقی کابینہ،جولائی،اگست کے بلوں کی قسطیں کرنے کی منظوری

بجلی کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

Back to top button