عمرے پر جانیوالے پاکستانی معمر شخص عرب میڈیا پر وائرل

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ہاتھ میں لاٹھی تھامے، ننگے پائوں چلتے باریش شخص نے جہاں زمانہ قدیم کےعلمائے اکرام کی یاد تازہ کی تو ساتھ سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کو بھی بڑھا دیا، ہر کوئی ان سے ملاقات کا خواہشمند تھا یہاں تک کہ سعودی وزیر نے بھی اس کا پتہ پوچھ لیا۔گزشتہ ہفتے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عرب میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہاتھ میں لاٹھی تھامے، ننگے پاؤں چلتے باریش بزرگ کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جنہیں مسجد نبوی ﷺ کے احاطے میں پریشان انداز میں گھومتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
بزرگ شخص کی پریشانی کی حالت میں مسجد کے احاطے میں چلنے کی ویڈیوز ابتدائی طور پر عرب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس میں بزرگ شخص کے انداز کو بزرگان دین اور صحابہ اکرام جیسا قرار دیا جا رہا تھا۔ ان کی ویڈیوز وائرل ہونے پر بعض لوگوں نے انہیں عرب جب کہ بعض لوگوں نے انہیں افغانی نژاد شخص قرار دیا، تاہم درحقیقت وہ بزرگ شخص پاکستانی تھے۔ویڈیوز میں وائرل ہونے والے ضعیف العمر بزرگ شخص کا تعلق صوبہ بلوچستان کے ضلع حب کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ عرب نیوز کے مطابق عرب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے بزرگ شخص کا تعلق بلوچستان کے ضلع حب کے چھوٹے سے گاؤں گوٹھ حاجی محمد رحیم مری سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق بزرگ شخص کی عمر 82 برس ہے اور ان کا نام عبدالقادر بخش مری ہے جن کی مادری زبان بلوچی ہے اور ان کے پانچ بیٹے ہیں۔وائرل ہونے والے بزرگ شخص نے ’عرب نیوز‘ کو بتایا کہ وہ انتہائی غریب ہیں، ان کے پاس اپنا مکان تک نہیں جب کہ انہیں عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے 15 سال تک پیسے جمع کرنے پڑے۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے عمرے کے لیے پیسوں کا انتظام کرنے کے لیے پہلے مویشی خریدے، انہیں پالا اور پھر انہیں فروخت کر کے ان سے حاصل ہونے والے پیسوں سے ویزا اور سعودی عرب کا ٹکٹ لیا۔
عبدالقادر بخش کا کہنا تھا کہ انہیں کئی سال سے مقدس مقامات دیکھنے کی خواہش تھی مگر غربت کی وجہ سے وہ سعودیہ نہیں جا پا رہے تھے لیکن اب وہ خوش ہیں کہ 15 سال کی محنت کے بعد وہ روضہ رسول ﷺ کو دیکھ کر آئے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس موبائل نہیں ہے اور نہ ہی انہیں یہ علم تھا کہ ان کی ویڈیو کسی نے بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کردی ہے۔بزرگ شخص اپنی وائرل ویڈیوز کو دیکھ کر حیران بھی رہ گئے، تاہم انہوں نے اس بات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ خدا نے انہیں مقدس مقامات کی زیارت کرنے اور عمرے کی ادائیگی کے لیے منتخب کیا۔عبدالقادر بخش مری نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ حج کا فریضہ بھی ادا کریں، تاہم غربت کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لیکن خدا نے چاہا تو وہ ضرور حج بھی ادا کرنے جائیں گے۔
دریں اثنا سعودی محکمہ تفریحات کے سربراہ ترکی آل الشیخ، معمر پاکستانی زائر کا ویڈیو کلپ دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ وہ پاکستانی بزرگ کی حج کی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے صارفین سے بزرگ زائر تک رسائی کے لیے مدد طلب کی ہے، ترکی آل الشیخ نے ٹویٹ کی کہ ’کون ہے جو مجھے ان کا پتا بتا سکے۔سوشل میڈیا کے سرگرم صارفین معمر پاکستانی کو اسلامی تاریخ کی مشہور شخصیات سے تشبیہہ دے رہے ہیں۔ محمد نامی صارف کا کہنا ہے کہ ’زائر افغانی ہے یا پاکستانی۔ تخیل یا تصور سے کام لیجئے۔ ان سے ملتی جلتی شکل والی شخصیات ہم تاریخی شخصیات سے متعلق ٹی وی سیریل میں مشاہدہ کرچکے ہیں۔ زائر جو لباس پہنے ہوئے ہے وہ ان کے علاقے کا معروف لباس ہے۔ کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ خدانخواستہ انہوں نے کوئی ٹی وی سیریل یا کوئی فضول پروگرام دیکھ کر کسی تاریخی شخصیت کی نقالی میں ان جیسا لباس زیب تن کیا ہو۔
عیسیٰ نامی صارف کا کہنا ہے کہ ایک معمر پاکستانی زائر اپنی قومی پوشاک میں ہیں۔ چہرے کے نقوش اور لباس کا انداز کسی قدر خستہ سا لگ رہا ہے۔ یہ زائر عمرے پر ہیں ان کی خواہش ہے کہ انہیں حج نصیب ہو جائے۔پاکستانی صحافی دلیپ کمار کھتری کے مطابق معمر شخص کا نام عبدالقادر ہے اور اب وہ واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں، انہوں نے ایک ٹویٹ میں مزید لکھا کہ معمر پاکستانی شہری پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ایک گاؤں گوٹھ حاجی محمد رحیم مری کے رہائشی ہیں۔
