یوتھیے صدر علوی نے اپنی عزت کا جنازہ کیسے نکالا؟

عمرانڈو صدر ڈاکٹر عارف علوی کی ایک بونگی نے ان کی رہی سہی ساکھ اور عزت کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بلز بارے جہاں ایک طرف صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سےاپنے ہی پرنسپل سیکرٹری وقار احمد پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالے جانے کا انکشاف ہوا ہے کہ وہ اس تمام تر تنازع کا الزام اپنے سر لے لے وہیں دوسری طرف صدر علوی کی دروغ گوئی کی وجہ سے بیوروکریٹس صدر کے سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے سے انکاری ہو گئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر مملکت نے اپنے پرنسپل سیکرٹری وقار احمد سے کہا ہے کہ آفشیل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بلز کے معاملے پر اُن کی پارٹی پی ٹی آئی کا اُن پر بہت دباؤ ہے، ابھی وہ خاموش ہو جائیں اور دو تین سال بعد پی ٹی آئی کی حکومت آئے گی تو اُن کی تلافی کر دی جائے گی۔اس پر وقار احمد نے جواب دیا کہ وہ چند ماہ میں ریٹائر ہو رہے ہیں، صدر مملکت اپنی سیاست کیلئے اُن کے بے داغ کیرئیر پر دھبہ نہ لگائیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کی خواہش تھی کہ وقار احمد بلز کے معاملے پر باضابطہ کوئی وضاحت نہ دیں اور کوئی خط نہ لکھیں لیکن وقار احمد نے دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ذرائع نے بتایاکہ پرنسپل سیکرٹری وقار احمد نے صدر مملکت کو یہ بھی بتایاکہ اگلے مہینے اُن کی بیٹی کی شادی ہے اور اُن کیلئے یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کہ اُن پر کسی ایسی بات کا الزام لگایا جائے جس سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

دوسری جانب صدر ڈاکٹر عارف علوی کی 2 بلوں کی ’مشکوک‘ منظوری کے حوالے سے ٹوئٹ سے شروع ہونے والا تنازع بحران کی صورت اختیار کرگیا کیونکہ بیوروکریٹس اب ایوان صدر میں تعیناتی سے ہچکچاتے نظر آرہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ صدر کو بظاہر ایک بغاوت جیسی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ سینیئر بیوروکریٹس صدر کے پرنسپل سیکریٹری کا عہدہ سنبھالنے کو تیار نہیں ہیں، ایوانِ صدر میں ماحول اتنا کشیدہ ہو چکا ہے کہ کوئی بھی افسر صدر کا پرنسپل سیکریٹری بننے کو تیار نہیں ہے۔

صدر کی جانب سے اپنے پرنسپل سیکریٹری وقار احمد کو تبدیل کرنے کے اقدام پر بیوروکریٹس میں بھی غصے اور تشویش کا احساس ہے، ان کا خیال ہے کہ صدر نے 10 روز کی مقررہ مدت میں 2 بل واپس نہ کرنے پر وقار احمد کو ’قربانی کا بکرا‘ بنایا ہے۔صدر کے پرنسپل سیکریٹری کے عہدے پر تعیناتی سے 22ویں گریڈ کی ایک افسر حمیرا احمد کے انکار کے بعد بیوروکریٹس میں یہ ہچکچاہٹ واضح ہوگئی،

خیال رہے کہ بل تنازع کے تناظر میں صدر عارف علوی نے اپنے پرنسپل سیکرٹری وقار احمد کی خدمات واپس کر دی تھیں اور وزیر اعظم آفس سے درخواست کی تھی کہ حمیرا احمد کو ان کی جگہ پر تعینات کیا جائے۔

لیکن ذرائع نے بتایا کہ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی وفاقی سیکریٹری حمیرا احمد نے صدر کی پرنسپل سیکریٹری بننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ان کے انکار کے بعد اب تک کسی اور افسر کو ایوان صدر نہیں بھیجا گیا۔حمیرا احمد کا انکار حیران کن ہے کیونکہ وہ ماضی میں عبوری حیثیت میں صدر کی پرنسپل سیکریٹری کے طور پر خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ حمیرا احمد کے انکار کے بعد صدر کو وقار احمد کو اپنے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر برقرار رکھنا پڑے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم آفس بھی صدر کی جانب سے پرنسپل سیکریٹری کی تبدیلی سے متعلق درخواست پر کان دھرتا نہیں دکھائی دے رہا۔رابطہ کرنے پر وزیراعظم آفس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صدر کو اپنے پرنسپل سیکریٹری کو تبدیل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے عبوری حکومت کو الیکشن کمیشن کی رضامندی کے بغیر سینیئر بیوروکریٹس کی تعیناتی اور تبادلوں سے روک دیا ہے۔

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے سیکرٹری کی تعیناتی کے معاملہ میں صدر کی نامزد کردہ گریڈ 22کی افسر اور سیکرٹری قومی ورثہ ڈویژن حمیرا احمد نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے ملاقات کر کے بطور سیکرٹری صدرِ مملکت تعیناتی سے معذرت کر لی ہے، ذرائع کے مطابق حمیرا احمد نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے ملاقات میں تعیناتی کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کسی متنازعہ عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتی ہیں، ذرائع کے مطابق حمیرا احمد کی معذرت کے بعد نگران حکومت نے صدر مملکت کے سیکرٹری کے تقرر کیلئے متبادل آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے، حکومت نے گریڈ 22 کے 3 افسران کا پینل الیکشن کمیشن اور صدر کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

عام انتخابات کی تیاریاں،نئی حلقہ بندیوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل 

Back to top button