وزیر اعظم کاکڑ کی نگراں کابینہ بھی ایک سرپرائز کیسے؟

 نگران وفاقی کابینہ کے حلف کے بعد انتخابات کے انعقاد کے لیے قائم کی جانے والی نگران حکومت کی تشکیل کا اہم مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ تاہم مبصرین انوار الحق کاکڑ کی طرح ان کی کابینہ میں شامل اکثریتی غیر معروف شخصیات کو بھی ایک سرپرائز قرار دے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نگران کابینہ میں بہت سے چہرے غیر معروف ہیں اور اس سے پہلے ان کو کبھی کسی اعلٰی سیاسی یا انتظامی عہدے پر نہیں دیکھا گیا۔کابینہ کے اعلان سے پہلے توقع کی جا رہی تھی کہ اس کے بیشتر ارکان ٹیکنوکریٹس ہوں گے مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ منتخب کیے گیے کئی وزیر ٹیکنوکریٹس ہونے کے ساتھ غیر معروف ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے ذریعے طویل المدتی اصلاحات کروائے جانے کا امکان ہے۔

سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا نگران کابینہ کی تشکیل بارے کہنا ہے کہ کئی غیر معروف ٹیکنوکریٹس کی کابینہ میں شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ طویل عرصے کے لیے کیے جانے والے فیصلوں اور اصلاحات کو یقینی بنائیں گے۔’مجھے لگتا ہے کہ ان لوگوں کو ایک طویل عرصے میں اصلاحات کرنے کے لیے لایا گیا ہے، نگراں کابینہ کا بنیادی کام تو انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی مدد کرنا ہوتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ان ٹیکنوکریٹس کا ایجنڈا انتخابات سے زیادہ اصلاحات ہے۔‘

تاہم گورننس کے ماہر اور ادارہ برائے پائیدار ترقی پالیسی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ زیادہ غیر معروف لوگوں کی نگران کابینہ میں شمولیت کی ایک بڑی وجہ سیاسی تنازعات سے بچنا ہے۔‘کابینہ میں غیر معروف لوگوں کی اکثریت اس لیے شامل ہے تاکہ غیرجانبداری قائم رہے- ایک کوشش کی گئی ہے کہ متنازع لوگ نہ ہوں، اور کابینہ پر کسی قسم کا اعتراض نہ آئے۔‘

تاہم سینیئر صحافی سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنوکریٹس عام لوگوں کے لیے غیر معروف ضرور ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے لیے ہرگز نہیں۔’ان کا انتخاب دو بڑی سیاسی جماعتوں نے مل کر کیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے اٹھائے گئے اقدامات کے اثرات مستقبل میں ان پر پڑیں گے، لہٰذا انہوں نے ایسے لوگوں کی نامزدگیاں کی ہیں جو مسائل اور اہم فیصلوں کا بوجھ اٹھا سکیں۔‘سلمان غنی نے مزید کہا کہ ’جس طرح نگراں وزیراعظم کو سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہے اسی طرح نگران کابینہ کے یہ ارکان بھی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ان کی تائید و حمایت سے منتخب ہوئے ہیں اور اہم فیصلے کریں گے۔‘

دوسری جانب بعض دیگر تجزیہ کاروں کی رائے میں نگراں کابینہ کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے۔ چاروں صوبوں کی نمائندگی موجود ہے، امید ہے کہ نگراں وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے معاہدے پر پورا اترے کی اور شرائط پر عمل کرے گی جس سے معیشت کو استحکام ملے گا۔

سینیئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا ہے کہ نگراں کابینہ کا انتخاب بہت اچھا کیا گیا ہے۔ نگراں وزیر مذہبی امور انیق احمد ایک ٹی وی پروگرام کرتے ہیں جو اسلام کی روشنی میں مسائل کی گرہ کھولتا ہے۔ انیق احمد مختلف مکاتب فکر کے درمیان ایک پل ہیں۔نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی مشکل حالات میں سر ہتھیلی پر رکھ کر ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، خود اور فیملی نے مشکلات کا سامنا کیا لیکن کبھی دہشت گردوں اور جنگجووں سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور مردانہ وار کھڑے رہے۔مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی بہت تجربے کار سفارت کار ہیں، وہ امریکا اور بھارت میں بخوبی اپنے فرائض سر انجام دے چکے ہیں، وہ سیکرٹری خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔احد چیمہ کتنے مشکل سے گزرے، بے گناہ سزا کاٹی اور سخت تفتیش کے باوجود ان پر کوئی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی ہے۔ اسی طرح وزارت خزانہ، وزارت اطلاعات اور دیگر وزارتوں کے لیے اچھے لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سینیئر صحافی حامد میر نے کہا کہ نگراں کابینہ کے انتخاب میں اس بات کا خیال کیا گیا ہے کہ چاروں صوبوں کی نمائندگی ہو، ٹیکنوکریٹ ہوں، نگراں کابینہ کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم وزارت خزانہ کے لیے شمشاد اختر کو چنا گیا ہے جو عالمی بینک کی نائب صدر رہ چکی ہیں، ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک میں بھی کام کر چکی ہیں، اسٹیٹ بینک کی بھی گورنر رہ چکی ہیں، اقوام متحدہ کی ایڈوائزر بھی رہ چکی ہیں اور ابھی اقوام متحدہ کی ایک کونسل ممبر ہیں۔دوسری جناب نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی منجھے ہوئے سابق سفارتکار ہیں، سیکرٹری خارجہ بھی رہ چکے ہیں، بھارت میں ہائی کمشنر رہے ہیں، یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر برسلز میں بھی پاکستان کے ہائی کمشنر رہ چکے ہیں۔حامد میر کا کہنا تھا کہ نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی وائس آف امریکا میں کام کر چکے ہیں، پیپلز پارٹی دور میں ریڈیو پاکستان کے سربراہ رہ چکے ہیں۔نگراں وزیر مذہبی امور انیق احمد پڑھے لکھے شخص ہیں، مذہبی اسکالر ہیں، نگراں وزیر قانون احمد عرفان اسلم ماہر قانون ہیں، نگراں وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ انور علی حیدر آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ رہ چکے ہیں، وہ پی ٹی آئی دور میں قائم کی گئی نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی میں بھی کام کر چکے ہیں۔حامد میر نے کہا کہ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے قریبی دوست ہیں اور ان کا تعلق بھی بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے، جب سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیر داخلہ تھے اس وقت انوار الحق کاکڑ اسی حکومت کے ترجمان تھے، اس طرح

گھر کے پاس عشروں سے پڑا پتھر سوا 2کروڑ روپے کاآسمانی نکلا

دونوں کا پہلے بھی ایک ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے۔

Back to top button