تحریک انصاف الیکشن سے آؤٹ، بلے کا انتخابی نشان واپس؟

آئندہ عام انتخابات سے پی ٹی آئی کے آؤٹ ہونے کے امکانات حقیقت کا روپ دھارنے لگے۔الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف سے انتخابی نشان بلا واپس لینے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر الیکشن کمیشن نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 4 اگست کو طلب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پارٹی الیکشن نہ کروانے پر تحریک انصاف انتخابی نشان کے حصول کیلئے نااہل ہو سکتی ہے۔۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 4 اگست کے لیے نوٹس جاری کر دیے گئے۔الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو جاری کئے گئے طلبی کے نوٹس میں کہا ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن نہ ہونے پر پی ٹی آئی انتخابی نشان لینے کے لیے نااہل ہوسکتی ہے۔

شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن 13 جون 2021 کے بعد سے نہیں ہوئے، پی ٹی آئی نے جو انٹراپارٹی انتخابات کرائے تھے وہ آئین کے مطابق نہیں تھے، بطور پارٹی سربراہ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنی پوزیشن واضح کریں۔

عمران خان کو بھیجے گئے نوٹس کے مطابق پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن 13 جون 2021 کو متوقع تھے، الیکشن کمیشن نے یاد دہانیوں کے نوٹسز جاری کیے، پی ٹی آئی کو جون 2022 میں آخری نوٹس جاری کیا گیا کہ اب مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ترمیم شدہ آئین کی کاپی جمع کروائی جو ناکافی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی کو 4 اگست کو جواب کے لیے طلب کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کے معاملے پر پی ٹی آئی قیادت کو 4 اگست صبح دس بجے طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدم پیشی پر آئندہ انتخابات میں انتخابی نشان کیلئے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابقپاکستان تحریک انصاف 9 مئی کے واقعے کے بعد شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ اب تک عمران خان کےقریبی ساتھیوں میں سے بیشتر ارکان نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے جبکہ پنجاب میں ٹکٹ ہولڈرز منظر عام سے غائب ہیں۔تحریک انصاف کے جو رہنما اب تک عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں ان میں سے اکثریت جیلوں میں ہے، کچھ بیرون ملک پناہ اختیار کر چکے ہیں اور کچھ نامعلوم مقام پر روپوش ہیں۔ اس ساری صورتحال میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کی حکمت عملی کیا ہوگی۔

سابق وزیراعظم عمران خان اس ساری صورتحال میں پر اُمید ہیں کہ جب بھی انتخابات ہوئے تحریک انصاف کے امیدوار ہی انتخابی معرکہ جیتیں گے اور سب کو ’سرپرائز‘ ملے گا۔عمران خان اپنی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے ابھی تک کُھل کر تو کچھ نہیں بتا رہے تاہم ایک حکمت عملی انہوں نے واضح کر دی ہے۔ عمران خان کے مطابق وہ آئندہ انتخابات میں وکلاء کو میدان میں اتاریں گے اور زیادہ تر ٹکٹس نوجوان اور نظریاتی کارکنان میں تقسیم کیے جائیں گے۔

تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق وکلاء کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ ریٹرنگ افسران کی جانب سے تحریک انصاف کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے میں متوقع رکاوٹیں ڈالنے کی حکمت عملی کے پیش نظر بھی کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے جو رہنما اب بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن شدید دباؤ کے باعث روپوش ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ نگراں حکومت آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہوجائے گی اور دباؤ میں کافی حد تک کمی بھی آئی گی، عمران خان بھی نگراں حکومت آنے کے بعد حالات میں تبدیلی کے حوالے سے پُر اُمید ہیں۔روپوش رہنماؤں کے مطابق اگر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا موقع ملا تو انتخابی مہم چلانے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم میں اگر جلسوں کی اجازت نہ ملی تو سوشل میڈیا کے ذریعے انتخابی مہم چلائی جائے گی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس ساری صورتحال کے پیش نظر آن لائن میٹنگز کے ذریعے پارٹی عہدیداروں کو ٹاسک سونپ دیے ہیں اور ان کی گرفتاری کی صورت میں بھی حکمت عملی کے حوالے سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔

تاہم دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ تازہ پیشرفت کے مطابق اگر الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بطور پارٹی ہی الیکشن کیلئے نااہل قرار دے دیا

مشترکہ مفادات کونسل الیکشن اگلے سال تک ملتوی کر دے گی؟

تو عمران خان کی تمام حکمت عملی دھری کی دھری رہ جائے گی۔

Back to top button