پاکستان میں شمسی توانائی کی سہولت، حکومت کے لیے مصیبت کیوں؟

پاکستان میں سستی توانائی کے حصول کے لیے غیر معمولی تعداد میں لگائے گئے سولر پینلز نے ملک کے پاور سیکٹر کو ایک بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت اس شعبے پر نئے ٹیکس لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے حالانکہ پہلے حکومت نے ہی عوام کو زیادہ سے زیادہ سولر پینل استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال میں مکانات کی چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب میں اتنا اضافہ ہوا ہے جتنا اس سے پہلے 10 برس میں نہیں ہوا تھا۔ تازہ صورت حال میں پاکستان کا شمار خطے کی اہم شمسی توانائی کی منڈیوں میں ہونے لگا ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کی سب سے بڑی وجہ بجلی کی قیمتوں میں کیا جانے والا نمایاں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ مقامی طور پر بنائے جانے والے انورٹرز اور بیٹری سٹوریج کی بڑھتی ہوئی دستیابی نے پاکستان کے شمسی نظام کو مزید مستحکم کیا ہے۔
انرجی امور کے ماہر طاہر بشارت چیمہ کے بقول ملک میں اس وقت شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار دو ہزار میگا ووٹ سے زیادہ ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں سولر انرجی کو ماحول دوست سمجھا جاتا ہے اور پاکستان کی حکومتیں بھی سولر انرجی کے حصول کی حوصلہ افزائی کرنے کا دعوی کرتی رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال میں پاکستان میں مکانات کی چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب میں اتنا اضافہ ہوا ہے جتنا اس سے پہلے 10 برس میں نہیں ہوا تھا۔ تاہم پاکستان کا تازہ بحران یہ ہے کہ ملک میں بجلی کی بڑی پیداوار چوری ہو رہی ہے اور ماضی میں بجلی کے بھاری بل دینے والے امیر صارفین سولر انرجی پر منتقل ہو رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں بجلی کی کمپنیوں کی آمدن میں اربوں روپے کی کمی ہو رہی ہے اور
حکومت کے لیے بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کو کپیسٹی پیمنٹ کی ادائیگی مشکل ہو گئی ہے۔
اب ایک تازہ پیش رفت یہ ہوئی ہےکہ پاکستان کے وفاقی ٹیکس محتسب نے ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس حکمنامہ نے پاکستان میں سولر پینل استعمال کرنے والے تقریباً اڑھائی لاکھ نیٹ میٹرنگ صارفین پر بجلی گرا دی ہے کیونکہ اب حکومت نے ان سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس سے پہلے سولر صارفین صرف اس بجلی پر ٹیکس دیتے تھے جو وہ اضافی طور پر استعمال کرتے تھے مگر اب انہیں بجلی کے ان تمام یونٹس پر ٹیکس دینا ہو گا جو وہ استعمال کرتے ہیں۔
اس معاملے پر وفاقی حکومت نے یہ موقف اپنایا ہے کہ 18 فیصد سیلز ٹیکس وصولی کا فیصلہ وفاقی ٹیکس محتسب نے دیا ہے جس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صارفین کو بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں نے ماضی میں یہ سیلز ٹیکس وصول نہ کر کے قومی خزانے کو دس ارب روپے کا بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کا اختیار صرف بجلی کی فراہمی پر ٹیرف کے تعین کا ہے، اسے سیلز ٹیکس یا انکم ٹیکس کی وصولی میں از خود کسی فیصلے کا اختیار نہیں ہے۔ لہذا اب سولر پینل صارفین سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت دنیا میں شمسی توانائی کے لیے چھٹا موزوں ترین ملک ہے جہاں روزانہ اوسطاً تقریباً نو گھنٹے سورج کی روشنی موجود رہتی ہے، مگر اس کے باوجود وہ سولر انرجی پیدا کرنے ولے پہلے 15 ممالک میں شامل نہیں ہے۔ ہمارا ہمسایہ انڈیا اس وقت چین اور امریکہ کے بعد سولر انرجی پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔ پاکستان میں بجلی کے کل صارفین کی تعداد تین کروڑ 70 لاکھ کے لگ بھگ ہے اس میں سے صرف اڑھائی لاکھ سولر پینلز کا استعمال کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ پر ہیں۔ یہ صارفین نیشنل گرڈ کو ملک بھر میں استعمال ہونے والی بجلی کا 10 فیصد حصہ اپنے سسٹم سے بنا کر کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کر رہے ہیں۔ یعنی یہ ڈھائی لاکھ صارفین اگر 300 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم نہ کر رہے ہوں تو سے یہ بجلی کافی مہنگے داموں پرائیویٹ کمپنیوں سے خریدنا پڑے۔ اس وقت ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے دس لاکھ ڈالر کی لاگت آتی ہے۔ گویا پاکستان کے سولر پینلز صارفین نیشنل گرڈ میں جو بجلی دے رہے ہیں اسے اگر حکومت خود پیدا کرتی تو اس پر اسکے تین ارب ڈالرز سے زیادہ صرف ہو جاتے۔ ایسے میں سولر پینل صارفین پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ سراسر زیادتی قرار دیا جا رہا ہے۔
انرجی امور کور کرنے والے صحافی احمد فراز خان نے بتایا کہ موجودہ صورت حال میں ایک طرف اربوں روپوں کے کپیسٹی چارجز کے بوجھ تلے دبی ہوئی پاکستانی حکومت اپنی بجلی فروخت کرنے کی خواہاں ہے، دوسری طرف اسے خطرہ ہے کہ شمسی توانائی کے صارفین پر پابندیاں لگانے سے اس کی مقبولیت پر بہت برا اثر پڑے گا۔
