جنوبی کوریا کےصدرنےمارشل لاکےنفاذ پرمعافی مانگ لی

جنوبی کوریاکےصدر یون سوک ییول نےملک میں مارشل لانافذ کرنےپرمعافی مانگ لی ہےتاہم اپنےعہدےسےاستعفیٰ نہیں دیا۔

صدر یون سوک ییول نےٹی وی پرنشر ہونےوالےقوم سے خطاب میں کہا کہ مارشل لا کا اعلان صدر کی حیثیت سےمیری مایوسی کی وجہ سے کیا گیا۔تاہم میرا یہ عمل عوام کےلیےپریشانی اور تکلیف کاباعث بنا۔میں ان شہریوں سےتہہ دل سےمعافی چاہتا ہوں جنہیں بہت زیادہ تکلیف ہوئی۔معافی مانگنےکےباوجودصدر یون نے عہدےسےمستعفی ہونےکااعلان نہیں کیا۔

پارلیمنٹ میں  صدر یون سوک ییول کےخلاف مواخذےکی تحریک پرووٹنگ آج ہوگی۔ اس موقع پرشہریوں نےدارالحکومت سیئول میں بڑے پیمانےپراحتجاج کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔صدر یون نےکی چند روز قبل  چار دہائیوں سے زائدعرصےکے بعد جنوبی کوریا میں مارشل لالگا کراورفوج کوپارلیمنٹ میں تعینات کرکےاپنے شہریوں اور عالمی برادری کو حیران کر دیا تھا۔

تاہم جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ میں قانون سازوں نےمارشل لاکےنفاذ کےصدارتی حکم نامےکومسترد کردیا تھاتاہم جنوبی کوریاکےصدرنےپارلیمنٹ کی قراردادکے بعد اپنافیصلہ واپس لےلیاتھا۔حزب اختلاف اورصدریون کی اپنی پارٹی کےاہم ارکان نے ان سےمستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

Back to top button