بلوچستان میں دہشتگردی: بڑھک باز فیصلہ ساز ایکشن کیوں نہیں لیتے؟

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے جعفر ایکسپریس کے سانحے کے بعد ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ 1500 علیحدگی پسند ہم سے بلوچستان نہیں چھین سکتے۔ یہ بالکل صائب بات ہے کیونکہ بلوچ دہشتگرد اور ان کے پروردہ بہت کم تعداد میں ہیں۔ زیادہ تر بلوچ نہ تو علیحدگی کی بات کرتے ہیں اور نہ تشدد کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ مگر سوال اتنا ہے کہ جب فیلڈ مارشل کا عزم اتنا واضح ہے، جب ہم دہشتگردوں کو جانتے ہیں، اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ انکی فنڈنگ بھارت سے ہو رہی ہے، تو پھر ان کی کمر توڑنے کے لیے کوئی بڑا فیصلہ کیوں نہیں ہو رہا؟ کوئی حتمی اعلان کیوں نہیں ہو رہا ؟ ریاست کس ابہام کا شکار ہے؟ عسکری فیصلہ سازوں کی جانب سے کس سانحےکا انتظار ہورہا ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود اپنے تازہ تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو ریاستیں قومی بیانیے کے محاذ پر ابہام میں رہتی ہیں وہاں قومی بیانیہ رفتہ رفتہ معدوم اور مفقود ہو جاتا ہے۔ جو ریاستیں بنیادی نظریات کے بارے میں کنفیوز رہتی ہیں وہاں ایک کنفیوز قوم پرورش پاتی ہے جو نظریے، سوچ اور فکر کی بنیادوں پر ہی دو رخی  کا شکار ہوتی ہے۔ جو ریاست اپنے قومی مقاصد میں واضح نہیں ہوتی وہاں منزل مقصود ریاست سے دور رہتی ہے۔ ان کے مقدر میں بس رستے کی کلفت رہتی ہے منزل تک ان کی دسترس نہیں ہوتی۔

عمار مسعود کا کہنا ہے کہ ہم بھی کنفیوز ہیں اور بہت کنفیوز ہیں۔ اس میں ریاست کا کتنا قصور ہے؟ طالع آزماؤں کی کتنی کاوش ہے؟ ابن الوقتوں نے اس میں کیا کردار ادا کیا ہے؟ آستینوں کے سانپوں نے اس میں کیا زہر گھولا ہے؟ یہ الگ بحث ہے مگر اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ ہم بہت سے لازمی محاذوں پر وہ سب کچھ نہ کہہ سکے، نہ کر سکے جو ریاست کی ذمہ داری بھی تھی اور ریاست کا مقصد بھی۔ یہاں ماضی کے زخموں کو کریدنا مقصود نہیں ہاں البتہ حال کو جانچ کر مستقبل کے احوال کو جانچنے کی خواہش ضرور ہے۔انکا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ۔ اس کو پاکستان کے سر کا تاج ہونا چاہیے تھا۔ تحریک آزادی میں اس کے جوانوں کی شمولیت کے قصے سنائے  جانے چاہئیں تھے۔ قائد اعظم کی قیادت میں  قاضی محمد عیسٰی نے جس طرح بلوچ جوانوں کو تحریک پاکستان کے لیے منظم کیا، اس کے قصیدے گانے چاہئیں تھے۔ اس کی زمیں میں موجود قدرتی وسائل سے پہلے بلوچستان اور پھر پورے ملک کو مستفید ہونا چاہیے تھا، اس کے رسم و رواج کا پرچار دنیا میں کرنا چاہیے تھا۔ مگر ان میں سے ہم کچھ نہیں کر پا رہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری جھولی میں صرف بم دھماکے، خود کش حملے، بیرونی ایما پر شورشیں، اندرونی سازشیں، نااہلی اور تقسیم در تقسیم کے سوا  کچھ بھی نہیں۔ وہ بلوچ جو امن پسند ہے، جو ریاست سے وفا کا داعی ہے، جو محبت کے لیے بنا ہے، اس کے ارد گرد ان لوگوں کا راج ہے جو ریاست میں آگ لگا رہے ہیں ، جو سب کے سامنے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، جو بیرونی فنڈنگ سے اس ملک کی زمیں کو لہو لہان کر رہے ہیں۔ کبھی یہ فتنہ انگیز بلوچ لبریشن آرمی کے روپ میں ملتے ہیں، کبھی ماہرنگ بلوچ کی زبان سے بولتے ہیں، کبھی بھارت کے ایما میں زہر گھولتے ہیں، کبھی دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے نکلتا ہے، کبھی ان کے ڈانڈے بھارت سے ملتے ہیں۔ یہ سب ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔  ان زہریلے پودوں کی آبیاری ہمارے ہاں ہی کی گئی۔ ساری  غلطی یہ ہے کہ ہم نے ان دشنموں کو اس سر زمیں پر پنپنے دیا۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ہمارا ریاستی ابہام بھی قصور وار ہے، ہمارا کنفیوز بیانیہ بھی ذمہ دار ہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ آج بلوچ لبریشن آرمی پاکستان میں جس پیمانے کی دہشت گردی کر رہی ہے اس کا تصور بھی کسی ترقی یافتہ ملک میں نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت بلوچستان میں نہ صرف خود کش حملے کیے جا رہے ہیں بلکہ پنجابی مسافروں کو ٹرینوں اور بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد لائنوں میں لگا کر قتل کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کی کوئی اور ریاست ہوتی تو کیا وہ اتنے خود کش حملوں اور قتل عام کے بعد خاموش رہتی؟ کیا کوئی اور ریاست اپنی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی اجازت دیتی؟ کیا وہ ایسے فتنہ انگیزوں کا بیانیےکے محاذ پر طاقتور ہونے کا انتظار کرتی۔ کوئی اور ریاست ہوتی تو اب تک ایسے عناصر کا قلع قمع کیا جا چکا ہوتا۔

تحریک چلانے کے باوجود عمران خان کی رہائی کا امکان کیوں نہیں ؟

عمار مسعود کہتے ہیں کہ ہمیں اصل دھوکہ انسانی حقوق کے نام پر دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کسی بھی ملک کے قوانین کے سر کا تاج ہوتے ہیں۔ انہی سے اس ملک میں انسانی جان کی اہمیت اور حیثیت کا پتہ چلتا ہے۔ انہی سے اس ملک کے شہریوں کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کے نام پر ظلم کرنے والوں نے ہمیشہ خود انسانی حقوق کو پامال کیا۔ انہی حقوق کو پاؤں تلے روندا، انہی انسانی حقوق کی آڑ میں خود کش حملے کیے۔ انہی انسانی حقوق کا نام لے کر سارے صوبے  کو لہو رنگ کر دیا۔ آپ کو حیرت نہیں ہوتی کہ جب ماہرنگ بلوچ انسانی حقوق کا نعرہ لگاتی ہیں۔ جب بلوچوں کا نام لیتی ہیں اور پھر جب غیر بلوچوں کے قتل پر خاموش رہتی ہیں، بسوں سے شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو چن چن کر مار دینے کے واقعات پر ان کا ٹوئٹر خاموش ہو جاتا ہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ جب جعفر ایکسپریس جیسے خونچکاں واقعات ہوتے ہیں اور ان کی جانب سے نہ تعزیت کا کوئی لفظ ادا کیا جاتا ہے نہ ان واقعات کے پیچھے چھپے لوگوں کی حمایت پر معذرت کا کوئی اظہار ملتا ہے تو کیا  آپ کو نہیں لگتا کہ وہ انسانی حقوق کی نہیں غیر انسانی حقوق کی علمبردار ہیں؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ وہ بلوچوں کے حقوق کا نام لے کر بلوچوں کو بدنام کر رہی ہیں؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ وہ بی ایل اے جیسی تنظیموں کی پشت پناہی کر رہی ہیں؟ کیا آپ کو نہیں لگتا  کہ وہ ریاست سے نفرت کا پرچار کر رہی ہیں، اس ریاست سے  جس کے خمیر سے انہوں نے پرورش پائی، جس ریاست کے وظیفے سے انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ جس ریاست کے جھنڈے تلے انہوں نے ملک کی سلامتی اور وفاداری کے گیت گائے۔ مختصر یہ کہ وقت ریت کی طرح ریاست کی مٹھی سے پھسل رہا ہے اور دہشت گردوں کا سر کچلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

Back to top button