پاکستان سے گرفتار دہشت گرد صرف امریکہ نہیں، روسیوں کا بھی قاتل

اگست 2021 میں افغانستان کے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر بم حملے میں 13 امریکی فوجی مارنے والے داعش کے کارندے شریف اللہ عرف جعفر نے پاکستانی حکام کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ مارچ 2024 میں بھی ماسکو کے ایک نائٹ کلب پر حملے کا سہولت کار تھا جس میں 130 روسی شہری مارے گے تھے۔

امریکہ کے فیڈرل بورڈ آف انوسٹی گیشن نے شریف اللہ کی پاکستان میں گرفتاری اور حوالگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایف بی آئی نے اس کا انٹرویو بھی کر لیا ہے۔ ایف بی آئی کے ایجنٹ سیٹھ پارکر کی طرف سے امریکہ کی ریاست ورجینیا کی عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وہ 2013 سے ایف بی آئی کے ساتھ بطور ایجنٹ منسلک تھے اور افغانستان میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ درخواست اس لیے جمع کی جا رہی ہے، تاکہ شریف اللہ عرف جعفر نامی ملزم کے خلاف ثبوت پیش کیے جا سکیں۔

امریکی عدالت کو بتایا گیا ہے کہ شریف اللہ شدت پسند تنظیم داعش سے 2016 سے منسلک ہے اور داعش کی خراسان شاخ کے لیے مختلف کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ دوران انٹرویو شریف االلہ نے بتایا ہے کہ 20 جون 2016 کو کابل کے سفارت خانے پر خود کش حملے میں بمبار کو ہدف کے مقام تک اس نے پہنچایا تھا۔ دوران تفتیش شریف اللہ نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کا نام عرفان تھا اور دھماکے کی جگہ تک پہنچانے میں تمام تر مدد اس نے فراہم کی تھی۔ ایف بی آئی کی دستاویزات کے مطابق شریف اللہ نے 2 مارچ 2025 کو تفتیش کے دوران بتایا کہ کابل ایئر پورٹ حملے سے دو ہفتے قبل وہ جیل میں تھا لیکن کابل پر قبضے کے بعد وہ رہا ہو گیا تھا۔

ایف بی آئی کی دستاویزات کے مطابق شریف اللہ جعفر نے اپنے تفتیش کاروں کو بتایا کہ کابل ایئر پورٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کے لیے اس سے رابطہ کیا گیا۔ اس۔مقصد کے لیے شریف اللہ کو موٹر سائیکل، فنڈز اور موبائل سم کارڈ فراہم کیا گیا۔ شریف اللہ کو کابل ایئرپورٹ پر دہشت گردی کا مشن سوپتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ ایک مخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دوران حملہ رابطے کے لیے اکاؤنٹ کھول کر روٹ کی تمام تر معلومات فراہم کرے۔ بتایا جاتا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر حملے کے دن شریف اللہ جعفر نے خودکش حملہ آور کو فون پر گائیڈ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ راستہ کلیئر ہے اور وہ آسانی سے چیک پوائنٹ عبور کر کے حمل کر سکتا ہے۔

امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق دوران تفتیش شریف اللہ نے یہ بھی بتایا کہ اس نے 22 مارچ 2024 کو روس کے شہر ماسکو میں نائٹ کلب پر حملے کے لیے بھی مدد فراہم کی۔ اس حملے میں 130 افراد مارے گئے تھے۔ شریف اللہ نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ داعش کے ایک نامعلوم رہنما نے مجھ سے رابطہ کر کے کلاشنکوف چلانے کی ہدایات لیں۔ شریف کے مطابق اس نے یہ ہدایات ایک ویڈیو کے ذریعے دیں۔ روسی حکام نے بعد میں چاروں حملہ آوروں کو گرفتار کیا لیا تھا جن میں سے دو کو شریف اللہ نے بندوق چلانا بھی سکھائی تھی۔ شریف اللہ نے اعتراف کیا کہ وہ کئی مہلک حملوں میں داعش خراسان کی جانب سے حصہ لیتا رہا ہے۔

Back to top button