کرنل کو اغوا کرنے والوں نے کن طالبان قیدیوں کی رہائی مانگی ہے ؟

تحریک طالبان پاکستان نے 28 اگست کو ڈیرہ اسماعیل سے اغوا کیے گئے پاکستان آرمی کے حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل اور ان کے بھائیوں اور بھانجے کی رہائی کے بدلے اپنے جن گرفتار ساتھیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے ان میں سوات سے تعلق رکھنے والے کمانڈر مسلم خان اور کمانڈر محمود خان سمیت 20 افراد شامل ہیں جو ماضی میں ملا فضل اللہ کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ملا فضل اللہ کا تعلق سوات سے تھا جو بعد میں وزیرستان چلا گیا اور تحریک طالبان پاکستان کا مرکزی امیر بنا۔ ملا بالاخر ایک امریکی ڈرون حملے میں افغانستان میں مارا گیا تھا۔ کمانڈر مسلم خان اور کمانڈر محمود خان دراصل ملا فضل اللہ کے قریب ترین ساتھی تھے جنہیں سوات میں فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کر کے سزائیں سنا دی گئی تھیں۔ اپنی گرفتاری سے پہلے مسلم خان تحریک طالبان پاکستان کا مرکزی ترجمان بھی رہ چکا ہے۔

ٹی ٹی پی نے اغوا شدہ کرنل کی رہائی کے بدلے ساتھیوں کی رہائی مانگ لی

ذرائع کا کہنا ہے کہ اغوا کیے جانے والے لیفٹننٹ کرنل خالد امیر خان ان کے دو بھائیوں اور بھتیجے کی جلد از جلد رہائی کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں اور طالبان کے مطالبات پر بھی غور شروع کر دیا گیا ہے۔ یاد ریے کہ لیفٹننٹ کرنل کا اغوا شدہ ایک بھائی اسسٹنٹ کمشنر جب کہ دوسرا نادرا میں ملازم ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عسکری حکام اغوا کاروں کی جانب سے فراہم کردہ اس فہرست میں شامل افراد کی تفصیلات جمع کر رہے ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ابھی تک کسی بھی حکومتی ادارے یا عہدے دار نے اغوا کاروں کی جانب سے لیفٹننٹ کرنل خالد امیر، ان کے دو بھائیوں اور ایک بھانجے کی رہائی کے بدلے پیش کردہ مطالبات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان چاروں کو نامعلوم مسلح افراد نے 28 اگست کی شام تب اغوا کیا تھا جب وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے والد کی تدفین کے بعد فاتحہ خوانی کے لیے آنے والے اہلِ علاقہ اور رشتہ داروں کے ساتھ مسجد میں موجود تھے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق اغواکاروں کا تعلق تحریکِ طالبان پاکستان کے گنڈاپور گروپ سے ہے جس نے 20 گرفتار طالبان کی رہائی کا مطالبہ کیا یے۔ یہ افراد سیکیورٹی اداروں کی قید میں ہیں۔ اغواکار تاوان کے لیے بھاری رقم کا تقاضا بھی کر رہے ہیں۔ اغوا کاروں نے لیفٹننٹ کرنل خالد امیر اور ان کے بھائی آصف امیر کے علیحدہ علیحدہ ویڈیو پیغامات بھی جاری کیے تھے جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے ان کی بازیابی کے لیے طالبان سے رابطے شروع کیے ہیں۔ ویڈیو پیغامات میں لیفٹننٹ کرنل خالد امیر اور ان کے بھائی آصف امیر نے حکومت سے طالبان کے مطالبات ماننے کی اپیل کی ہے۔ بتایا جاتا یے کہ اس سلسلے میں مشاورت اور صلاح مشورے بیک وقت اسلام آباد، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری ہیں۔

اغوا کاروں کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں اطلاعات کے مطابق سوات کے مسلم خان اور محمود خان، باجوڑ کے مولوی عمر اور جنوبی وزیرستان کے لطیف محسود کے نام بتائے جاتے ہیں۔

لیکن لطیف محسود کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ لطیف محسود کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں 2013 میں تب گرفتار کیا گیا تھا جب وہ افغان حکومت کے کہنے پر افغان طالبان کے حلیف حقانی نیٹ ورک سے مذاکرات کے لیے پاکستان آئے تھے۔ ان کی گرفتاری پر تب کے صدر حامد کرزئی نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سوات کے سابق ترجمان مسلم خان اور محمود خان 2009 کے وسط میں فوجی آپریشن راہ راست کے وقت حراست میں لیے گئے تھے۔ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے مولوی عمر 2005 میں مہمند سے گرفتار ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اغوا کاروں کی جانب سے ڈیڈ لائن بھی دے دی گئی ہے جس کے دوران گرفتار شدہ طالبان رہنماؤں کی رہائی لازمی ہے ورنہ مغربیوں کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔

Back to top button