ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل سےمتعلق کیس سماعت کیلئےمقرر

سپریم کورٹ نےفوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سےمتعلق کیس سمیت دیگراہم مقدمات سماعت کیلئےمقرر کردیئے۔

سپریم کورٹ نے6 سے10جنوری تک آئینی بینچ کی کازلسٹ جاری کر دی، جس کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں7 رکنی آئینی بینچ مقدمات کی سماعت کرےگا۔

7رکنی آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کےمطابق آئینی بینچ ملٹری کورٹس کیس کی سماعت7جنوری کو کرےگا،عمران خان کی8 فروری کے انتخابات میں دھاندلی کےحوالےسے آئینی درخواست بھی اسی روز سنی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے لاپتا افراد کیس بھی سماعت کیلئےمقرر کردیا، آئینی بینچ 8 جنوری کو کیس کی سماعت کرے گا، ڈپٹی اسپیکر پنجاب رولنگ نظر ثانی کیس بھی سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا، آئینی بینچ حمزہ شہباز کی نظر ثانی درخواست پر 9 جنوری کو سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ نےہائیکورٹ کے چیف جسٹسز کے صوابدیدی اختیارات کے خلاف درخواست10 جنوری کو سماعت کیلئےمقرر کردی، اس کےعلاوہ طلبہ تنظیموں پر پابندی کے خلاف درخواست پربھی10 جنوری کو سماعت ہوگی۔

واضح رہے کہ13 دسمبر کوسپریم کورٹ کےآئینی بینچ نےفوجی عدالتوں کو9 مئی کے واقعات میں ملوث85 ملزمان کےفیصلے سنانے کی اجازت دیتےہوئےقرار دیا تھا کہ فوجی عدالتوں کےفیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمہ کےفیصلے سےمشروط ہوں گے۔

آئینی بینچ نے حکم دیا تھا کہ جن ملزمان کو سزاؤں میں رعایت مل سکتی ہے انہیں رہا کیا جائے، جن ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا انہیں سزا سنانے پر جیلوں میں منتقل کیا جائے۔

اس فیصلے کےبعد گزشتہ ماہ ہی سانحہ9 مئی میں ملوث85 مجرموں کو فوجی عدالتوں سے10 سال قید بامشقت تک کی سزائیں سنادی گئی تھیں،21 دسمبر 2024 کو آئی ایس پی آرنے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سانحہ9 میں میں ملوث25 مجرمان کو10 سال تک قید بامشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔

بعدازاں 26 دسمبر 2024 کو آئی ایس پی آر نے اعلان کیا تھا کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرمان کو 10 سال تک قید بامشقت کی سزائیں سنادی گئی ہیں، ملزمان کو مرحلہ وار جیل منتقل کیا گیا تھا۔

Back to top button