چیف جسٹس نےبھی PTIوالوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا

این آر اور کے مطالبے پر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور شہباز حکومت کی جانب سے جھنڈی دکھائے جانے کے بعد یوتھیے رہنماؤں نے ایک بار پھر عدلیہ کےسامنے اپنی جھولی پھیلا دی ہے تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی این آر او کی خیرات یوتھیوں کی خالی جھولی میں ڈالنے کی بجائے انھیں اپنا طرز سیاست بدلنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ چیف جسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کو نظام کا حصہ بنے رہنے اور بائیکاٹ سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انصار عباسی کے مطابق 21 فروری کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل ایک ذرائع نے بتایا کہ دوران ملاقات جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کو سپریم جوڈیشل کمیشن کے آخری اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ یہ اجلاس سپریم کورٹ میں عدالتی تقرریوں پر غور کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ وفد کو بتایا گیا کہ اگر پی ٹی آئی کے ارکان اجلاس میں شریک ہوتے تو کچھ تقرریاں مختلف ہو سکتی تھیں۔ انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے واقعی پی ٹی آئی کو نظام میں رہنے اور ججوں کی تقرری کے عمل کے بائیکاٹ سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ ملاقات میں شامل پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی اجلاس میں شریک ہوتی تو سپریم کورٹ کی بعض تقرریوں پر فرق پڑتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ چیف جسٹس کا پی ٹی آئی کو سسٹم کے اندر رہنے کا مشورہ پارٹی کی جانب سے سپریم جوڈیشل کمیشن کے آخری اجلاس کے بائیکاٹ کے حوالے سے تھا۔
خیال رہے کہ قومی عدالتی پالیسی کمیٹی کے ضمن میں دس نکاتی ایجنڈا پر تجاویز کے حصول کیلئے چیف جسٹس پاکستان سے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات میں پی ٹی آئی نے ایجنڈے سے ہٹ کر شکایات کے انبار لگا دیے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھاکہ چیف جسٹس نے عدالتی ریفارمز کے حوالے سے 10 نکاتی ایجنڈا شیئر کیا‘وفدنے چیف جسٹس کے سامنے ملٹری کورٹس اور لاپتہ افرادکا معاملہ بھی اٹھایا‘چیف جسٹس کو بتایاکہ ملک میں انسانی حقوق عملا ختم ہو چکے ‘نظام عدل کو مذاق بنادیا گیا‘بانی سے ملاقات نہیں کرائی جاتی ‘آپ کی عدالت کے حکم کو کوئی حکم سمجھتا ہے نہ ہی اس پر عملدرآمد ہوتا ہے ‘نوٹس نہ لیا گیا تو عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
سوشل میڈیا پر یوتھیوں کی جانب سے عدالتی ریفارمز کیلئے ہونے والی ملاقات میں چیف جسٹس کے سامنے اپنے دکھڑے بیان کرنےکے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے
ملاقات کے حوالے سے چیف جسٹس یحیی آفریدی کا تو کوئی بیان سامنے نہیں آیا البتہ خود بیرسٹر گوہر نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ ضرور کہا کہ چیف جسٹس نے انہیں مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے لہٰذا اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ مذکورہ ملاقات کی اہمیت کتنی ہے؟ کیا ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کو عدلیہ سے کسی قسم کا ریلیف ملنا ممکن ہے؟مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی لیڈر شپ قانونی معاملات کو بھی سیاسی انداز میں پیش کر کے ملک میں ایک نفسیاتی پالیسی طاری کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی مشکلات کا ازالہ نہیں ہو پا رہا بلکہ ان کی مشکلات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ لہٰذا اعلیٰ عدلیہ سے توقعات قائم کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ عدلیہ آئین اور قانون کی پابند ہے جسے دباؤ کے تحت اپنے حق میں فیصلوں پر مجبور نہیں کیا جا سکتا،تاریخ یہی ہے کہ سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں کو ریلیف ہمیشہ عدالتوں سے ملا ہے لہٰذا پی ٹی آئی کو چاہئے کہ عدالت سے اپنے مفادات کے لئے توقعات قائم کرنے کے ساتھ موثر عدالتی سسٹم اور انصاف کی فراہمی کے لئے قابل عمل تجاویز بھی دے ۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ آج اپنے کس گناہ کا کفارہ ادا کر رہی ہے؟
مبصرین کے مطابق ہر طرف سے ناکام ہونے کے بعد یوتھیوں نے چیف جسٹس کے سامنے گریہ زاری کر کے ان سے رحم کی بھیک مانگی ہے تاہم تمام منتوں ترلوں اور دہائیوں کے بعد اس در سے بھی پی ٹی آئی رہنماؤن کو صرف دلاسے ہی ملے ہیں مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں سے کے ساتھ میٹنگ کے آغاز میں ہی چیف جسٹس نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ میں نے آپ کو ایجنڈا بھیجا ہے آپ کو گفتگو سے نہیں روکوں گا۔ تاہم میں آپ کی کسی گفتگو کا جواب نہیں دوں گاآپ مجھے تحریری طور پر سارا کچھ دیجئے۔اس پر دیکھوں گا کہ میرے اختیارات میں کیا ہے اور اس پر میں کیا کرسکتا ہوں۔جومیرے اختیارات سے باہر ہے اس پر کوئی اقدام نہیں اٹھاؤں گا۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کو چیف جسٹس سے اچھی باتیں تو سننے کو ملیں گی مگر عملی طور پر کسی اقدام کا کوئی چانس نہیں ہے کیونکہ عدلیہ فیصلے دے سکتی ہے عمل درآمد حکومت اور مقتدرہ کرتی ہے۔کوئی ایسا فیصلہ جس سے نظام کو خطرہ ہوجائے اسے کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔ ویسے بھی عدلیہ کے اندر اس وقت جو صورتحال ہے اس کی وجہ سے ایگزیکٹو اور پارلیمنٹ مضبوط ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کو عدلیہ کی طرف سےکوئی ایسا ریلیف ملنے کا کوئی امکان نہیں جس سے مقتدرہ اور حکومت کے نظام میں خلل پڑے۔اگر مقتدرہ نہیں چاہتی کہ عمران خان رہا ہوں تو بانی پی ٹی آئی کبھی باہر نہیں آئینگے۔
مبصرین کے مطابق ماضی قریب میں مقتدرہ اور حکومت مخالف کچھ ججز نے فیصلے کئے تو وہ نہیں مانے گے۔ان پر عمل ہی نہیں کیا گیاکیونکہ حقیقت یہی ہے کہ عدلیہ فیصلے دے سکتی ہے عمل درآمد حکومت اور مقتدرہ کرتی ہے۔کوئی ایسا فیصلہ جس سے نظام کو خطرہ ہوجائے تووہ کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق26ویں ترمیم کے بعد صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے پاس اب184/3کا اختیار بھی نہیں ہے۔وہ آئینی بینچ کے سربراہ نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کو چیف جسٹس سے اچھی باتیں تو سننے کو ملیں گی مگر عملی طور پر کوئی ریلیف ملنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
