حکومت کا فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے یوتھیوں کو تننے کا فیصلہ

لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی گاڑی پر حملے کے بعد وفاقی حکومت نے بے لگام اور بدتمیز یوتھیوں کی بھرپور ٹھکائی کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ شرپسندوں کو اس طرح نشان عبرت بنایا جائے کہ آئندہ کسی کو ریاستی اداروں اور ان کے سربراہان پر حملے کی جرات نہ ہو۔ جہاں ایک طرف وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شرپسندی اور بدتہذیبی میں ملوث عمرانڈوز کے پاسپورٹ منسوخ اور شناختی کارڈز بلاک کرنے کے حوالے سے سمری حتمی منظوری کیلئے کابینہ کو بھجوا دی ہے وہیں وفاقی حکومت نے حملے کا معاملہ برطانوی حکومت کے سامنے بھی اٹھا دیا ہے جس کے بعد غل غپاڑہ کرنے والے یوتھیوں پر برطانیہ میں عرصہ حیات تنگ ہوتا نظر آتا ہے۔

تاہم اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا کیا طریقہ کار ہے اور اس سے متعلقہ فرد کے معاملات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

اس حوالے سے نادرا حکام کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ منسوخ کرنے کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کی شہریت ہی ختم کر دی جائے اور ریاست ایسے شہری کے ساتھ اپنا ناطہ توڑ لے یا کوئی شہری خود درخواست دے کر اپنی شہریت ختم کر لے۔ اگر یہ عمل ریاست کی جانب سے کیا جائے تو یہ ایک سزا ہوتی ہے جو کسی بھی جرم کے ثابت ہونے سے پہلے نہیں دی جا سکتی۔ اس لیے لندن واقعے میں ملوث افراد کی شناختی کارڈ منسوخی کا سوال ابھی پیدا نہیں ہوتا۔‘

حکام نے بتایا کہ ’البتہ ریاستی ادارے جن میں قانون نافذ کرنے والے تمام محکمے اور عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی ایسے شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا کہہ دیں جو قانون کو مطلوب ہو لیکن وہ طلبی پر حاضر نہ ہو رہا ہو۔ ریاستی محکموں کی درخواست اور عدالتی احکامات کی روشنی میں نادرا کارروائی کرتے ہوئے اس کا شناختی کارڈ بلاک کر دیتا ہے۔‘

خیال رہے کہ ماضی قریب میں شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کی مثال پاکستان تحریک انصاف کے ان رہنماؤں اور کارکنوں کی ملتی ہے جو نو مئی کے واقعات کے بعد عدالتوں میں پیش ہونے کے بجائے روپوش ہو گئے۔

تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ شناختی کارڈ بلاک ہونے سے شہری کو نقصان کیا ہوتا ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق اگر تو کوئی شہری ملک کے اندر رہ رہا ہو اور اس کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا جائے تو وہ بطور شہری ریاست سے اپنے کسی بھی حق کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور اس کے یہ حقوق اس وقت تک معطل رہتے ہیں جب تک اس کا شناختی کارڈ بحال نہیں ہو جاتا۔

نادرا حکام کے مطابق ’اگر کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک ہو جاتا ہے وہ علاج معالجے کی سہولیات سمیت دیگر شہری حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے بینک اکاونٹ منجمند ہو جاتے ہیں اور اس کا پاسپورٹ بھی کسی کام کا نہیں رہتا۔ وہ کاروباری لین دین نہیں کر سکتا۔ زمین جائیداد کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا اور رقم کی ٹرانزیکشن کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے پاس موجود شناختی کارڈ محض ایک دستاویز رہ جاتی ہے جو اس کے کسی کام کی نہیں ہوتی۔‘

اب یہاں پر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس واقعے پر وزیر داخلہ نے شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے وہ تو پاکستان میں موجود ہی نہیں تو ان کے خلاف پاکستان میں کیا کارروائی کی جا سکتی ہے۔

پاکستان پر 18 ارب ڈالرز کا جرمانہ کیوں عائد ہونے جا رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق’اگر کسی بھی ایسے شہری کے متعلق کسی پاکستانی ادارے کی طرف سے یہ درخواست آتی ہے کہ وہ قانون کو مطلوب ہے لیکن وہ پیش نہیں ہو رہا تو نادرا ان کا شناختی کارڈ بلاک کر سکتا ہے۔ جس سے وہ جب بھی پاکستان کا سفر کریں گے تو ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ان کا ریکارڈ سب کچھ بتا دے گا۔‘ جس کے بعد اس کا پاکستان کی طرف بغیر ویزے کے سفر کرنا ممکن نہیں ہے گا۔

Back to top button