جیل میں عمران کو حق زوجیت دلوانے کیلئے کوشاں شخص PTI ورکر نکلا

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں حق زوجیت کی فراہمی کیلئے کوشاں شخص تحریک انصاف کا ورکر نکلا۔ شہری شاہد یعقوب نے نہ صرف اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے بلکہ عدالت عالیہ میں دادا رسی نہ ہونے پر سپریم کورٹ تک جانے کا بھی اعلان کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت نے اس حوالے سے دائر کسی بھی درخواست سے لاتعلقی کا اعلان کر رکھا ہے۔

تاہم پی ٹی آئی کے اعلان لاتعلقی کے باوجود عمران خان اوربشریٰ بی بی کو جیل میں حق زوجیت کے حوالے سے دائر درخواست کا معاملہ سنجیدہ رخ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی اپنی اہلیہ سے جیل میں حق زوجیت کی ادائیگی کیلئے تنہائی میں ملاقات کرانے کیلئے پی ٹی آئی ورکر کی جانب سے دائر درخواست پر جواب طلب کر لیا ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نےچیف کمشنر اسلام آباد، حکومت پنجاب، آئی جی جیل خانہ جات اور جیل سپرنٹنڈنٹ کونوٹس جاری کرتے ہوئے شہری کی درخواست پر شق وار جواب جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حق زوجیت کی فراہمی کیلئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب عدالت نے درخواست گزار سے پوچھا کہ حق زوجیت کی عدم ادائیگی سے اس کے حقوق کیسے متاثر ہو رہے ہیں جس کے جواب میں درخواست گزار شہری شاہد یعقوب کا کہنا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے سیاسی فلسفے کی پیروی کرتے ہیں اور وہ پی ٹی آئی کے فالوور ہیں۔ اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی لمبے عرصے سے جیل میں قید ہیں اس لئے حق زوجیت کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر بانی اور بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقات کروائی جانی چاہیے۔ اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں شاہد یعقوب نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قیدیوں کو جیل کے اندر اپنی بیوی یا شوہر سے ملاقات کا حق دیا جانا چاہیے،تاہم جیل حکام نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اپنی اہلیہ سے ملاقات کا حق چھین رکھا ہے جو بین الاقوامی قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جیل میں قید عمران خان کو اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دی جائے اور حکومت کو اس حوالے سے تمام سہولیات بہم پہنچانے کا پابند بنایا جائے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی یا بشریٰ بی بی نا درخواست گزار اور نا ہی اس کیس میں فریق ہیں جبکہ پی ٹی آئی بھی اس درخواست سے لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ہونے والی ’’حقِ زوجیت‘‘ کی درخواست نے نہ صرف ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے بلکہ تحریک انصاف کی سیاسی و سماجی پوزیشن کو بھی متنازع بنا دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ درخواست پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی جانب سے دائر کی گئی ہے جو خود کو "عوامی مفاد” کا نمائندہ اور پی ٹی آئی کا ورکز ظاہر کرتا ہے۔  ایک عام سائل کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ سے کئے گئے مطالبے نے نہ صرف قانونی ماہرین بلکہ سیاسی تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے، کیونکہ اس نوعیت کی درخواست جیل اصلاحات یا قیدیوں کے حقوق کے عمومی تناظر میں نہیں بلکہ براہِ راست ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ عمران خان کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ جس پر اب اسلام آباد ہائیکورٹ نے باقاعدہ جواب بھی طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نجی زندگی کو سیاسی پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔  اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے تاکہ عمران خان کی سیاست کو مزید متنازع بنایا جا سکے اور عوامی ہمدردی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

کیا گنڈا پور کا پشاور جلسہ پنڈی کے قیدی کو رہا کروا پائے گا؟

خیال رہے کہ جیل میں قید خاوند کا بیوی سے ملاقات کے لیے قانونی طریقہ کار موجود ہے جس کے مطابق قیدی میاں بیوی خود ملاقات کے لیے سپرٹینڈنٹ جیل کو درخواست کرسکتے ہیں، سپرنٹنڈنٹ جیل اجازت نہ دے تو ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی جاتی ہے، ڈپٹی کمشنر آفس سے درخواست مسترد ہونے پر متعلقہ ٹرائل کورٹ سے اجازت لی جاسکتی ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ بھی درخواست مسترد کر دے تو ہائیکورٹ کا فورم استعمال ہوسکتا ہے۔ تاہم ایسی ملاقات کے لیے جیل میں فیملی روم کی سہولت ہونا ضروری ہے جبکہ ذرائع کے مطابق سینٹرل جیل اڈیالہ میں میاں بیوی کی ملاقات کے لیے فیملی روم کی سہولت دستیاب ہی نہیں ہے۔ اس لئے عمران خان کی بشریٰ بی بی سے جیل کے اندر حق زوجیت کی ادائیگی کیلئے ملاقات کے امکانات معدوم ہیں۔ تاہم اس حوالے سے پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ صوبے کی جیلوں میں قیدیوں کو ’’حقِ زوجیت‘‘ کی ادائیگی کے لیے پہلے ہی باقاعدہ انتظامات موجود ہیں۔ جیل قوانین کے تحت مخصوص شرائط اور سیکیورٹی پروٹوکول کے ساتھ قیدیوں کو یہ حق دیا جا سکتا ہے۔ اگر عدالت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ایسی کسی سہولت کی فراہمی کا حکم آیا یا عمران خان کی جانب سے پنجاب حکومت کو ڈائریکٹ درخواست دی  گئی تو اس پر ضرور غور کیا جائے گا۔

 

Back to top button