عمرے کے لالچ میں منشیات سمگلنگ کروانے والے گینگ کی کہانی

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے پاکستانیوں کو خبردار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ کسی بھی صورت کسی جانب سے مفت عمرہ کروانے کی کوئی افر قبول نہ کریں ورنہ انہیں یا تو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا یا پھر ساری زندگی سعودی عرب کی جیل میں کاٹنا پڑے گی۔
اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اس وقت ایک منظم گینگ مفت عمرے کا کالچ دے کر معصوم پاکستانیوں کو سعودی عرب بھجوانے کے دھندے میں ملوث ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے ان کے سامان میں منشیات بھی ڈال دی جاتی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں لاہور کے خاندان کے ساتھ بھی پیش آیا جب فرحانہ اکرم اور ہارون علی کو مفت عمرے کے لیے لاہور سے سعودی عرب بھجوایا گیا جہاں ان کے سامان سے منشیات نکل آئیں اور یہ لوگ گرفتار ہو۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ سعودی عرب میں منشیات فروشی اور سمگلنگ کے الزام پر سزائے موت دے دی جاتی ہے‘ کیس کا فیصلہ بہت سپیڈ سے ہوتا ہے اور اس کے بعد مجرم کو چوک میں بٹھا کر اس کی گردن کاٹ دی جاتی ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اس کیس کی تفشیش کے بعد پتہ چلا کہ یہ ایک منظم گروہ کی واردات تھی۔ طریقہ واردات یہ ہے کہ اگر کسی طرح منشیات سے بھرا بیگ پاکستان سے سعودی عرب پہنچ جائے اور پکڑا نہ جائے اور معصوم مسافر بیگ لے کر ائیرپورٹ سے باہر نکل جائے تو گینگ کے لوگ ٹیکسی سٹینڈ پر اس سے معذرت کرتے ہیں اور پھر اسے بتاتے ہیں آپ غلطی سے ہمارا بیگ اٹھا لائے ہیں‘ مسافر فوراً مان جاتا ہے اور ان کا بیگ ان کے حوالے کر دیتا ہے اور یوں منشیات سعودی عرب پہنچ جاتی ہیں۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ لاہور کے ایک خاندان کے ساتھ حال میں ہی پیش انے والے ایسے ہی واقعے کی تفتیش کے بعد نہ صرف بے گناہ خاندان کو رہا کروایا گیا بلکہ 9 سمگلر گرفتار بھی ہو گئے‘ جنھوں نے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
جاوید چوھدری کہتے ہیں کہ ذرا سوچیے کہ آپ جیسے تیسے پیسے جمع کر کے عمرے پر گئے ہوں‘ آپ کا زیادہ وقت حرم شریف میں عبادت میں گزرتا ہو اور پھر آپ کو ایک ایسے گھناؤنے جرم میں گرفتار کر لیا جائے جس کی سزا موت ہو تو آپ کی کیا صورت حال ہو گی؟ فرحانہ اکرم اور اس کے خاندان کے لوگ بھی پورا مہینہ اسی اذیت اور مشکل کا شکار رہے‘ اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آ گیا اور یہ لوگ صرف مہینہ بھر کی خواری کے بعد رہا ہو گئے‘ آپ ذرا سوچیے اگر محسن نقوی کی وزارت منشیات اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لے کر ان کو رہائی نہ دلواتی تو ان لوگوں کا کیا بنتا! یہ اس وقت کہاں ہوتے؟
سینیر صحافی کا کہنا ہے کہ یہ کہانی ثابت کرتی ہے ہم من حیث القوم کس قدر گر چکے ہیں‘ ہمارے دل میں اس سرزمین کا احترام بھی نہیں رہا جس کی طرف منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں یا جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے‘ ہمارے لوگ کس قدر ظالم اور غلیظ ہیں آپ یہ جاننے کے لیے کسی دن سعودی حکومت سے پوچھ لیجیے‘ آپ کو خود سے گھن آنے لگے گی‘ پاکستانی یا پاکستانی بھیس میں چھپے درندے احرام‘ قرآن مجید‘ جائے نماز اور حج کی چپلوں میں منشیات چھپا کر سعودی عرب لے جاتے ہیں‘ خواتین منشیات کو جسم کے ان حصوں میں چھپا کر حجاز مقدس پہنچ جاتی ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور یہ کام حج اور عمرے کی آڑ میں ہوتا ہے۔
انکا کہنا ہے لہ پاکستان میں بے شمار ایسے گروہ پکڑے گئے ہیں جو غریب اور مسکین لوگوں کو مفت عمرہ یا حج کی آفر کرتے ہیں‘ لوگ خوش ہو کر ان کے رزق اور عمر میں اضافے کی دعائیں کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ جدہ اترتے ہیں تو انھیں اس وقت پتا چلتا ہے ان کے مہربان سخی نے ان کے بیگ میں ہیروئن یا آئس چھپا دی تھی‘ یہ ظالم لوگ بزرگ عورتوں اور معصوم چھوٹے بچوں کے جسم تک میں منشیات چھپا کر سعودی عرب پہنچا دیتے ہیں‘ یہ بے گناہ لوگ بعدازاں پکڑے جاتے ہیں اور پھر ان کے سر اتار دیے جاتے ہیں‘ سعودی عرب‘ یو اے ای اور ایران میں ہر سال پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں بھکاری بھی جاتے ہیں اور یہ وہاں مانگ مانگ کر ملک کا نام روشن کرتے ہیں‘ یہ بھکاری جاتے ہیں۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ یہ لوگ چھ ماہ کا سیزن لگاتے ہیں‘ پاکستان واپس آتے ہیں‘ عیاشی کرتے ہیں اور احرام باندھ کر دوبارہ سعودی عرب پہنچ جاتے ہیں اور پھر خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں لوگوں کی عقیدت سے کھیل کر مال سمیٹتے ہیں‘ ہم یو اے ای‘ عراق اور ایران میں بھی یہ گھناؤنا کھیل کھیلتے ہیں اور ہمیں ذرا برابر ملال یا شرمندگی نہیں ہوتی‘ اس وقت بھی ان چاروں ملکوں کی جیلوں میں ہزاروں پاکستانی قید ہیں اور یہ وہاں کی حکومتوں کو بتا رہے ہیں ہم کس قدر غیرت مند اور شان دار قوم ہیں‘ ہم اکثر دنیا سے شکوہ کرتے ہیں دنیا ہماری عزت نہیں کرتی‘ دنیا کیوں عزت کرے گی جب یونان یا اٹلی میں کشتی ڈوبے گی اور اس میں پاکستانی نکلیں گے‘ دنیا کے ہر ائیرپورٹ پر پاکستانی پاسپورٹس پر جعلی ویزے ملیں گے‘ ہم جب بچے اغواء کر کے ملک سے باہر بیچ دیں گے‘ جعلی نکاح ناموں پر امیگریشن اپلائی کر دیں گے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ آپ خود سوچیے جو لوگ عمرہ اور زیارت کو نہیں بخش رہے‘ جو اسے بھی سمگلنگ اور ڈنکی کے لیے استعمال کر رہے ہیں‘ جو حرم شریف میں کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر بھیک مانگ لیتے ہیں یا جو دوسرے حاجی کی جیب کاٹ لیتے ہیں‘ کیا آپ ان کی عزت کریں گے؟ مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے ہم مسلمان تو دور ہم دراصل انسان ہی نہیں ہیں۔
