یوکرینی صدر نے روس سے جنگ ختم کرنے کی حمایت کردی

یوکرین کےصدر ولودومیر زیلنسکی نےروس سے جنگ ختم کرنے کی حمایت کردی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کےمطابق یوکرینی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہےکہ امید ہےڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی صدارت سنبھالنے پرروس یوکرین جنگ جلد ختم ہو جائےگی اور نئی امریکی انتظامیہ یقینی بنائے گی کہ جنگ ختم ہوجائے۔
زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نےٹرمپ کےساتھ امریکی صدارتی انتخابات میں ان کی جیت کے بعد ٹیلی فونک گفتگومیں روس کے خلاف جنگ کےحوالے سےتبادلہ خیال کیاتھا۔
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ٹرمپ نےروس کےساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی مطالبات کیےلیکن یہ ضرور کہا کہ انہیں ٹرمپ کی طرف سے کوئی ایسی بات نہیں سننے کو ملی جو یوکرین کےمؤقف کےخلاف ہو۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ دو سال سےزائد عرصے سے جاری ہے جہاں یوکرین کو امریکاکی حمایت حاصل ہے،اس جنگ میں یوکرین کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور بہت سی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔
ایک جرمن تحقیقاتی ادارےکی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ امریکا یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔روس کے خلاف فروری 2022 سے جنگ کے آغاز سےجون 2024 کے اختتام تک امریکا نے یوکرین کو 55.5 ارب ڈالرمالیت کے ہتھیار اور سازوسامان فراہم کرنےکا وعدہ کیا۔
صدارتی انتخابات میں کامیابی پرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں نئی جنگیں شروع کرنے کے بجائےجاری جنگیں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
صدر ٹرمپ ایلون مسک کو اپنی کابینہ میں کیوں شامل کر رہے ہیں؟
ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخابی مہم کےدوران بھی وعدہ تو کیا تھا کہ وہ اس جنگ کو ایک دن میں ختم کر دیں گے، لیکن انہوں نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیاکہ وہ ایسا کس طرح کریں گے۔
