امریکا یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرسکتا ہے اور اسرائیل امریکی آپشن پر غور کررہا ہے ، اسرائیلی حکام

اسرائیلی حکام کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پریکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرسکتا ہے اور اسرائیل امریکی آپشن پر غور کررہا ہے۔
رپورٹ کےمطابق اسرائیلی مؤقف یہ ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کا بچ جانا یا تباہ ہونا اب ’اتنا اہم نہیں رہا کیونکہ اسرائیل اور امریکا کو ایران پر فضائی برتری حاصل ہے،امریکا دوبارہ کسی بھی وقت ایران کے یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کرنے یا میزائل داغنے کی صورت میں حملہ کر سکتا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سےکہا جا رہا ہےکہ اگرامریکا یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے اور ایران اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسرائیل اور امریکا مل کر ایران کی اہم تنصیبات یا توانائی کے انفراسٹرکچر پر مشترکہ حملے کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران اس جنگ بندی کی پاسداری کرتا ہےتو ایران اسے اپنی فتح کے طور پر پیش کرے گا کہ اس نے امریکا اور اسرائیل کو جھکنے پر مجبور کردیا ہے ۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دوسری جانب، امریکا اور اسرائیل یہ مؤقف اختیار کریں گےکہ انہوں نے ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ کر دیا ہے،اس طرح یہ آپشن دونوں فریقین کے لیے کشمکش سے نکلنےکا موقع فراہم کر سکتا ہے، اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سےروکنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
بمباری کےباوجودایران سےبات چیت تیار ہیں،امریکی وزیرخارجہ
دوسری جانب، ایران نے امریکی حملے کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جواب کے لیے وقت اور نوعیت کا فیصلہ ایرانی افواج کریں گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنی پوسٹ میں اعلان کیا کہ تھا امریکا نے ایران میں فردو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات پر ’انتہائی کامیاب حملہ‘ مکمل کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ فردو نیوکلیئرسائٹ ہمارامرکزی ہدف تھا اور اس پر مکمل بمباری کی گئی ہے اور یہ پلانٹ تباہ کردیا گیا ۔
