ملک کی پارلیمانی سیاست پر ہزاروں سوال اٹھ رہے ہیں،فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان کو اسلامی ملک بنانا ہمارے اکابرین کا شیوہ رہا ہے، ملک کی پارلیمانی سیاست پر ہزاروں سوال اٹھ رہے ہیں۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانافضل الرحمٰن کہا کہ ہمارے ایوانوں کو ایسے لوگوں کو بھر دیا جاتا ہے جنہیں قران و سنت سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، سفارشات موجود ہیں لیکن ایک بھی سفارش پر آج تک ایک بھی بحث نہیں ہوئی۔
سربراہ جے یوآئی کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں فرقہ ورانہ عناصر کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا، یہ عناصر اس وقت اشتعال پیدا کرتے ہیں جب ہماری ریاست یا اس کی کسی حکومت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔
فضل الرحمٰن نے کہا کہ فرقوں کو ریاستی ادارے اور حکومتیں لڑاتی ہیں،الزم مکاتب فکر پر لگائے جاتے ہیں، ان کے درمیان اشتعال کے پیچھے ان کی باقاعدہ منصوبہ بندی کارفرما ہوتی ہے۔
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پرسوں میرے پاس ایک قابل احترام سفیر تشریف لائے جنہوں نے بہت سی باتوں میں کرم ایجنسی کا ذکر کرتے ہوئے فسادات کی طرف اشارہ کیا، میں نے انہیں کہا کہ یہاں تو قبائل لڑ رہے ہیں لیکن اگر یہ فرقہ ورانہ فساد ہے تو کرم ایجنسی سے آگے ہنگو، کوہاٹ بھی آتا ہے۔
فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ کیا وجہ ہے کرم میں جھگڑا فرقہ ورانہ ہے، آگ جل رہی ہے لیکن اس کی تپش ہنگو، کوہاٹ تک نہیں پہنچتی بلکہ کراچی اور لکھنؤ تک پہنچ جاتی ہے۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا ہم مقامی لوگ ہیں اور ہمیں پتہ ہے کہ کرم کا مسئلہ کیسے حل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کو کب تک غلط فہمی کا شکار کیا جائے گا، جب ہم معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر اشتعال دیا جاتا ہے، مجھ سے رابطے ہوئے لیکن ہم نے بندوق نہیں اٹھائی۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے مسئلے پر حکومت کا مقابلہ صرف جمعیت علمائے اسلام سے تھا، اس ترمیم میں سب سے پہلے حملہ آئین کے آرٹیکل 8 پر ہوا جو بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے لیکن ہم نے انکار کیا۔
