ٹرمپ کی حلف برداری ،یوتھیے امریکیوں کے ترلے کیوں کرنے لگے؟

امریکہ میں بھارت اور اسرائیل نواز ارکان کانگریس کے ذریعے متعدد بار پاکستان کے خلاف قراردادیں منظور کرانے اور نئے ہرکارے رچرڈ گرینل کو استعمال کرنے کے باوجود پی ٹی آئی کو عمران خان کی رہائی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اس مایوسی کے عالم میں اب پی ٹی آئی لابی کی منتوں اور ترلوں پر مبنی سر توڑ کوششیں جاری ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمران خان کی فوری رہائی کیلئے مطالبہ نہ سہی کم از کم کسی طرح اڈیالہ کے قیدی کو ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کا دعوت نامہ ہی مل جائے۔ تاکہ اس دعوت نامے کی بنیاد پر عمران ٹرمپ کے مضبوط تعلقات بارے نیا بیانیہ ترتیب دیا جا سکے۔ دوسری جانب یوتھیوں نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری پر احتجاج کر کے عمران خان کی رہائی کیلئے دہائیاں دینے کا پروگرام مرتب کر لیا ہے جس کے لئے نہ صرف یورپین ممالک بلکہ امریکہ بھر سے یوتھیوں کو اکٹھا کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں امریکہ میں مقیم پی ٹی آئی سے فائدہ اٹھانے والے چند پاکستانی نژاد ڈاکٹر پیش پیش ہیں۔ واشنگٹن میں اسی لابی سے جڑے ایک ڈاکٹر نے بتایا ’’ہماری لابی بہت زور لگارہی ہے کہ کسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کا دعوت نامہ عمران خان کے نام جاری ہو جائے۔ عمران خان چاہے اس تقریب شریک ہو نہ ہو جس کا امکان بھی نہیں۔ لیکن اس سے یہ ہوگا کہ پاکستان پر بانی پی ٹی آئی کو رہا کرنے کا دبائو بڑھ جائے گا اور دوسرا یہ کہ پی ٹی آئی اور اس کی سوشل میڈیا ٹیم کو اپنے اس بیانیہ کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی کہ نو منتخب امریکی صدر، عمران خان کے پیچھے کھڑا ہے‘‘۔

اس ڈاکٹر کے بقول فی الوقت اس بیانیہ کے لیے رچرڈ گرینل کو استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی امریکہ کے کرتا دھرتائوں کے نزدیک اگر ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کا دعوت نامہ عمران خان کو مل جاتا ہے تو یہ ہماری بڑی کامیابی ہوگی۔ تاہم پی ٹی آئی امریکہ کے کرتا دھرتائوں کو اپنی اس کوشش میں تاحال ناکامی کا سامنا ہے۔ رچرڈ گرینل سمیت اب تک کسی نے دعوت نامہ دلانے کی یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی نے رچرڈ گرینل اور پارٹی کے دیگر حامی ارکان کانگریس کے ذریعے اپنی ان کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ بیس جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

مشی گن اور واشنگٹن میں موجود دیگر ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی لابی کے زیر اثر اور تمام سفارتی آداب بالائے طاق رکھ کر عمران خان کی رہائی کی دہائی دینے والے رچرڈ گر ینل کو اس لائن پر ڈالنے والے کردار ہی اب عمران خان کو تقریب حلف برداری کا دعوت نامہ دلانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ تاہم رچرڈ گرینل کوئی یقین دہانی کرانے سے قاصر رہے۔

ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی امریکہ کے کرتا دھرتا ترس رہے ہیں کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد کسی طرح عمران کے لیے ٹرمپ کے منہ سے ایک آدھ لفظ سر زد ہو جائے۔ اس بارے میں ٹرمپ کے سابق پاکستانی نژاد مشیر ساجد تارڑ کہتے ہیں ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تاش کے سارے پتے ٹیبل پر رکھ دیئے ہیں۔ جس سے میکسیکو، کینیڈا، پاناما کنال گرین لینڈ، بھارت، بنگلہ دیش کی ہندو کمیونٹی، غزہ اور یوکرین سمیت دیگر معاملات کے بارے میں ان کے آئندہ کے ارادوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن اس میں کہیں بھی عمران خان نہیں ہے‘‘۔

ناقدین کے مطابق ایک جانب یوتھیے عمران خان کونو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حلف برداری کی تقریب کا دعوت نامہ دلانے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ میں مقیم عمرانڈوز نے ٹرمپ کی حلف برداری پر 20 جنوری کو واشنگٹن میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور حمایت کے لئے ٹرکوں پر نعرے اور وڈیوز آویزاں کرکے رہائی مہم چلانے کا فیصلہ ہے۔ یوتھیوں کی جانب سے امریکہ میں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے انسانی حقوق کی صورتحال، ملکی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا اور دیگر مواد پر مبنی تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ شہر میں گشت کرنے کے لئے چند ٹرک کرایہ پرحال کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔

تاہم ناقدین کے مطابق امریکا مخالف مہم کے بعد PTI آج کل امریکا سے ہی عمران خان کی رہائی کیلئے اپیلوں میں مصروف ہے۔  پی ٹی آئی امریکا پاکستانی حکومت  پر دباؤ بڑھانے کے لئے پہلے ہی امریکا کے سیاسی حلقوں میں بڑی سرگرمی سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم امریکی یوتھیوں کو کوئی کامیابی ملتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے کہیں زیادہ امریکی داخلی مسائل ، معیشت، کانگریس سے تقرریوں کی منظوری، مشرق وسطی کی صورتحال اور خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے اہم مسائل پر توجہ درکار ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی سر توڑ کوششیں جاری ہیں کہ رچرڈ گرنیل کی طرح بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بارے میں چند مزید بیانات حاصل کئے جائیں تاکہ پاکستان پر عمران خان کی رہائی کیلئے دباؤ بڑھایا جا سکے ۔ تاہم یوتھیوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ مقتدر قوتیں فیصلہ کر چکی ہیں کہ عمران خان کی رہائی صرف عدالتی احکامات پر ہی ممکن ہے۔ اس حوالے سے کوئی بھی دباو یا دھمکی برداشت نہیں کی جائے گی۔

Back to top button