کرم میں قافلے پرفائرنگ کا مقدمہ درج،30 افراد نامزد

کرم میں قافلے اور ڈپٹی کمشنرپرفائرنگ کا مقدمہ درج کرلیاگیا۔30افراد کو مقدمے میں نامزد کیاگیاہے۔
ڈپٹی کمشنر پر گزشتہ روز ہونے والے فائرنگ کا مقدمہ تھانا سی ٹی ڈی کرم میں درج کرلیا گیا۔مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ صدہ سے بگن کی جانب آتے وقت بگن کے مقام پر ڈی سی پر حملہ ہوا، پانچ نامعلوم سمیت 30 افراد مقدمے میں نامزد ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق واقعے میں ڈپٹی کمشنر کرم اور 3 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے۔ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
دوسری جانب ضلع کرم میں دفعہ 144 کے تحت 5 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر 2 ماہ کیلئے پابندی عائد کردی گئی۔ دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش پر بھی 2 ماہ کیلئے پابندی ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر جاوید محسود پر فائرنگ مذاکراتی عمل کے دوران ہوئی جس کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر سمیت 7 افراد زخمی ہوئے۔
ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود پر حملہ کی حکومت کو موصول ابتدائی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے دوسرے قافلوں سے پہلے جانا تھا اور سڑک کھلوانے کےلیے چند مشران سے ملاقات کرنی تھی۔ مذاکراتی عمل کے دوران شرپسندوں نے ڈپٹی کمشنر جاوید محسود اور سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کر دی۔
تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حملے میں ڈپٹی کمشنر سمیت 3 پولیس اور 2 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے ڈپٹی کمشنر کو 3 گولیاں لگیں جس کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا۔
بعدازاں کرم کےلیے 3 ماہ بعد کھانے پینے کا سامان لے جانے والا قافلہ روک دیا گیا۔
دوسری جانب ضلع کرم میں کشیدہ حالات کے باعث دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔امن خراب کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا بھی فیصلہ کرلیا گیا۔
کوہاٹ میں اعلیٰ سطح کا اجلاس 4 گھنٹے جاری رہا، جس میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کرم کے موجوہ حالات کے تناظر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی، ضلع بھر میں جلسے جلوس اور اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کرم واقعے میں ملوث ملزمان کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا، ملزمان کیخلاف سخت کارروائی ہوگی، کرم کا امن خراب کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کرم میں دہشت گرد امن معاہدہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، امن معاہدہ خراب کرنے کی کوشش کی وجہ سے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔
