علیمہ خان پارٹی پر قابض ہونا چاہتی ہیں : شیر افضل مروت

 

 

 

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان وراثت سنبھالنے کے چکر میں ہیں لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی موجودہ حکمتِ عملی، تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ جماعت اندرونی اختلافات، غیرمؤثر تنظیمی فیصلوں اور کمزور سیاسی حکمتِ عملی کے باعث کمزور ہوچکی ہے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا عمل محدود ہوگیا ہے، جس کے باعث سیاسی جدوجہد اور احتجاجی سیاست متاثر ہوئی۔جب کہ بعض غیرمنتخب افراد کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے جماعتی معاملات پر منفی اثر ڈالا۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ پی ٹی آئی اس حد تک کمزور ہوچکی ہےکہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران مؤثر سیاسی مہم چلانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔پارٹی قیادت کو خیبرپختونخوا سمیت دیگر علاقوں سے کارکنوں کو متحرک کرکے ایک بھرپور انتخابی مہم چلانی چاہیے تھی۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ 28 فروری 2024 کےبعد پارٹی معاملات پر عمران خان کی بہن علیمہ خان اور بیرون ملک مقیم بعض یوٹیوبرز کا اثر و رسوخ بڑھا، جس کے نتیجے میں فیصلہ سازی محدود ہوگئی اور اختلافی آوازوں کو دبایا جانےلگا۔ اگر یہ حکمتِ عملی درست تھی تو پارٹی زیادہ مضبوط کیوں نہ ہوسکی اور احتجاجی سیاست مؤثر کیوں نہ رہی۔

امریکا کے ایرانی دفاعی تنصیبات پر حملے

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کارکنوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی جماعت کو متحد، متحرک،منظم اور قید رہنماؤں کی رہائی کےلیے مؤثر عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف تین ماہ کےلیے جماعت کی تنظیمی کمان دی جائے۔اگر انہیں یہ ذمہ داری دی گئی تو وہ جماعت کو دوبارہ منظم، متحد اور فعال کرکے دکھا سکتے ہیں اور قید رہنماؤں کی رہائی کےلیے ’’حقیقی عوامی تحریک‘‘ کھڑی کرسکتے ہیں۔

ان کاکہنا تھاکہ اس مدت کےبعد وہ مستقل طور پر جماعت سے علیحدہ ہوجائیں گے کیوں کہ بقول ان کے وہ موجودہ ماحول،کردار کشی،سازشوں، جھوٹ،بہتان، یوٹیوبر کلچر اور اندرونی اختلافات سے شدید نالاں ہیں۔

 

Back to top button