بجٹ 2026-27 : کسے ملے گا ریلیف اور کسے پہنچے گی تکلیف؟

آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ ایک ایسے وقت میں تیار کیا جا رہا ہے جب حکومت کو ایک طرف عوامی ریلیف کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے اور دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی سخت شرائط نے معاشی فیصلوں کو محدود کر دیا ہے۔ 5 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیے جانے کے بعد بجٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، اور یہ بجٹ بظاہر “ریلیف اور مالیاتی نظم و ضبط” کے درمیان ایک نازک توازن کی کوشش ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے اشارے دیے گئے ہیں، جبکہ وزارت خزانہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں 5 سے 10 فیصد اضافے کی مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ ان تجاویز کو مہنگائی کی شرح سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مالی دباؤ کو کسی حد تک متوازن رکھا جا سکے۔ تاہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس سے زیادہ، یعنی 20 فیصد اضافے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جو موجودہ مالی حالات میں حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق بجٹ سازی میں سب سے بڑا دباؤ ٹیکس اصلاحات اور محصولات کے اہداف ہیں۔ آئی ایم ایف نے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے، جس سے 250 سے 300 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔ تاہم حکومتی حلقے اس اقدام سے مہنگائی میں اضافے کے خدشے کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق رواں مالی سال میں محصولات 13 ہزار ارب روپے کے قریب پہنچنے کا امکان ہے، تاہم مقررہ اہداف کا مکمل حصول اب بھی غیر یقینی ہے۔ اس صورتحال میں آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 15.264 کھرب روپے کا ہدف زیر غور ہے، لیکن آئی ایم ایف نے اس پر بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

بجٹ میں توانائی کے شعبے کے حوالے سے بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں لاگت کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کی جائے اور سبسڈیز میں بتدریج کمی لائی جائے۔ حکومتی منصوبوں کے مطابق تقریباً ایک کھرب روپے کی سبسڈی مختص کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا بڑا حصہ پاور سیکٹر کے لیے ہوگا۔ تاہم اس کے باوجود توانائی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات ابھی مکمل طور پر کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے۔ بنیادی اختلافات تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، برآمدی شعبے پر ٹیکس میں نرمی، اور ان اقدامات سے پیدا ہونے والے مالی خسارے کو پورا کرنے کے طریقہ کار پر برقرار ہیں۔حکومت کی جانب سے ریٹیل سیکٹر کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت چھوٹے تاجروں سے متعین ٹیکس وصول کیا جائے گا اور انہیں آڈٹ سے استثنا مل سکتا ہے۔ اسی طرح آٹو سیکٹر میں ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں ممکنہ تبدیلی بھی زیر بحث ہے۔

ماہرین کے مطابق آئندہ بجٹ میں ایک طرف محدود ریلیف کے اقدامات ہوں گے، جیسے تنخواہوں میں اضافہ اور بعض ٹیکسوں میں کمی، جبکہ دوسری طرف جی ایس ٹی میں اضافہ، سبسڈیز میں کمی، اور توانائی نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ جیسے سخت فیصلے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ یہ بجٹ صرف ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ ایک “پالیسی بیلنسنگ ایکٹ” ہوگا، جس میں حکومت کو عوامی دباؤ، سیاسی اتحادیوں کے مطالبات اور آئی ایم ایف کی شرائط کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ بجٹ پیش ہونے کے بعد بھی مذاکرات اور تبدیلیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حتمی شکل آخری لمحوں تک تبدیل ہو سکتی ہے۔

Back to top button