پیپلز پارٹی اور نون لیگ آمنے سامنے، GB الیکشن میں کس کا پلڑا بھاری؟

گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور 7 جون کو ہونے والے اس انتخابی معرکے کو خطے کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ 24 جنرل نشستوں کے لیے 664 امیدواروں کا میدان میں اترنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مقابلہ اس بار غیر معمولی حد تک سخت اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔

تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان میں اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اس وقت سب سے زیادہ متحرک نظر آ رہی ہیں، جبکہ دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں اور آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں میں اپنا اثر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے تمام 24 حلقوں میں امیدوار کھڑے کر کے اپنی بھرپور موجودگی کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ن لیگ 22 حلقوں میں براہِ راست میدان میں ہے اور دو نشستوں پر اتحادی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار الیکشن میں محض امیدواروں یا پارٹیوں کے درمیان مقابلہ نہیں بلکہ گلگت کے انتخابات میں وفاقی سیاست کے اثرات بھی نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی اسلام آباد کی سیاست گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اور جس جماعت کی وفاق میں حکومت ہے اسے گلگت کے الیکشن میں بھی برتری حاصل ہو گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت بظاہر اصل مقابلہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں نے نہ صرف مضبوط انتخابی مہم شروع کی ہے بلکہ مرکزی قیادت بھی علاقے میں موجود ہے تاکہ انتخابی فضا کو اپنے حق میں موڑا جا سکے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف اس بار نسبتاً کمزور پوزیشن میں ہے کیونکہ اسے انتخابی نشان نہیں ملا اور اس کے کئی امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں، جس سے ووٹ تقسیم ہونے کا امکان ہے۔ تجزیہ کار ممتاز گوہر کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی سیاست باقی ملک سے مختلف نوعیت کی ہوتی ہے۔ یہاں صرف پارٹی وابستگی ہی نہیں بلکہ برادری، علاقائیت، ذاتی اثر و رسوخ اور امیدوار کی ساکھ بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق بعض حلقوں میں شخصی ووٹ بینک اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہ بڑی سیاسی لہروں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بار انتخابی مہم میں جن اہم مسائل پر بحث ہو رہی ہے ان میں آئینی حیثیت، صوبائی حقوق، سیاحت، ماحولیاتی تبدیلی، سی پیک منصوبے، معدنی وسائل اور نوجوانوں کے روزگار جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ یہ تمام عوامل ووٹرز کے فیصلے پر براہ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ استحکام پارٹی اور بعض آزاد امیدوار اس بار مخصوص حلقوں میں حیران کن نتائج دے سکتے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں مقامی قیادت مضبوط ہے یا جماعتی مقابلہ زیادہ تقسیم شدہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گلگت حلقہ 2 اس بار سب سے زیادہ مقابلے والا حلقہ ہے جہاں 58 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ دیامر 4 میں صرف 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جو اس حلقے کو نسبتاً سادہ مگر مقامی سیاست کے لحاظ سے اہم بنا دیتا ہے۔ماضی کے انتخابات پر نظر ڈالیں تو 2009 میں پیپلز پارٹی، 2015 میں ن لیگ اور 2020 میں پی ٹی آئی نے اکثریت حاصل کی تھی، تاہم بعد ازاں سیاسی تبدیلیوں اور نااہلیوں کے باعث حکومتوں کی تشکیل میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا۔ یہی پس منظر اس بار کے الیکشن کو مزید غیر یقینی بنا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اس وقت مکمل طور پر واضح برتری کسی ایک جماعت کو حاصل نہیں، تاہم پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان سخت مقابلے کی صورتحال ہے۔ بعض حلقوں میں آزاد امیدوار اور مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے امیدوار نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔ممتاز گوہر کے مطابق ابتدائی رجحانات سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ الیکشن کے بعد کسی بھی واضح اکثریت کے بجائے مخلوط حکومت کا امکان زیادہ ہے، جس میں بڑی جماعتوں کو اتحادی سیاست پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔یوں گلگت بلتستان کا یہ انتخابی معرکہ نہ صرف مقامی سیاست بلکہ وفاقی سیاسی توازن کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، اور حتمی فیصلہ ووٹرز 7 جون کو اپنے حقِ رائے دہی کے ذریعے کریں گے۔

Back to top button