پاکستانی سگریٹ ٹیکس پالیسی عوامی تنقید کی زد میں کیوں؟

پاکستان میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے اور سرکاری آمدنی بڑھانے کے لیے حالیہ برسوں میں سگریٹوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے گئے، تاہم زمینی حقائق اس پالیسی کے برعکس نتائج کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ماہرین اور معاشی رپورٹس کے مطابق ٹیکس میں غیر معمولی اضافے کے باوجود نہ صرف سگریٹ نوشی میں واضح کمی سامنے نہیں آئی بلکہ غیر قانونی اور اسمگل شدہ سگریٹوں کی مارکیٹ تیزی سے پھیل گئی ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں ریٹیل مارکیٹ کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قانونی اور غیر قانونی سگریٹوں کے درمیان قیمت اور معیار کا فرق صارفین کے رویے کو تبدیل کر رہا ہے۔ قانونی برانڈز پر بڑھتے ہوئے ٹیکس کے باعث ان کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں، جبکہ غیر قانونی سگریٹ نسبتاً سستے اور آسانی سے دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین کا ایک بڑا حصہ اب غیر قانونی چینل کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

آکسفورڈ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 43 ارب غیر قانونی سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں، جو مجموعی مارکیٹ کا نصف سے بھی زیادہ حصہ بنتا ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ملک میں سالانہ سگریٹ کا استعمال تقریباً 80 ارب یونٹس کے قریب مستحکم ہے، یعنی مجموعی کھپت میں کوئی نمایاں کمی نہیں ہوئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ 2022 سے 2023 کے دوران سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں کیا جانے والا غیر معمولی اضافہ ہے، جو بعض اندازوں کے مطابق 100 فیصد سے بھی زیادہ تھا۔ اس تیزی سے بڑھنے والے ٹیکس نے قانونی سگریٹ کو عام صارف کی پہنچ سے دور کر دیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ کا بڑا حصہ غیر قانونی مصنوعات کی طرف منتقل ہو گیا۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس سے وابستہ محققین کے مطابق غیر قانونی سگریٹ صرف سرحد پار اسمگلنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ ملک کے اندر ایک متوازی اور منظم غیر قانونی مارکیٹ بھی وجود میں آ چکی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس مارکیٹ کا تقریباً 60 فیصد حصہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے غیر قانونی سگریٹوں پر مشتمل ہے۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مارکیٹ میں سینکڑوں برانڈز موجود ہیں جن میں سے بڑی تعداد پر کوئی ریونیو اسٹیمپ یا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر نہیں ہوتی، جس سے ریاستی نگرانی مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال نے قانونی صنعت کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں جبکہ غیر قانونی کاروبار کو تقویت ملی ہے۔

ماہرین صحت عامہ کے مطابق عالمی ادارہ صحت سگریٹ پر زیادہ ٹیکس کو تمباکو نوشی کم کرنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیتا ہے، تاہم پاکستان میں مسئلہ صرف ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ اس کے نفاذ اور غیر قانونی مارکیٹ پر کنٹرول کی کمزوری بھی ہے۔ ان کے مطابق جب تک اسمگلنگ اور غیر قانونی پیداوار پر مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی، ٹیکس بڑھانے کا فائدہ محدود رہے گا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سگریٹ ٹیکس سے سرکاری آمدنی میں بھی توقعات کے مطابق اضافہ نہیں ہو سکا۔ چند برس قبل جہاں حکومت تقریباً 250 ارب روپے سالانہ وصول کر رہی تھی، وہ حالیہ عرصے میں کم ہو کر تقریباً 210 ارب روپے تک آ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق افراط زر کو مدنظر رکھا جائے تو حقیقی آمدنی میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔ صحت کے شعبے پر اس پالیسی کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ سرکاری اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ اس سے جڑا معاشی بوجھ بھی سینکڑوں ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔تجزیہ کاروں کی رائے میں موجودہ پالیسی ایک پیچیدہ مخمصے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف حکومت تمباکو نوشی کم کرنا چاہتی ہے، دوسری طرف غیر قانونی مارکیٹ کے پھیلاؤ نے نہ صرف ریونیو کو متاثر کیا ہے بلکہ قانون کی عمل داری اور صحت عامہ کے اہداف کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ماہرین کا مشترکہ مؤقف یہ ہے کہ مسئلے کا حل صرف ٹیکس بڑھانا نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی ہے، جس میں سخت قانون نافذ کرنے، اسمگلنگ کی روک تھام، اور قانونی صنعت کو مستحکم کرنے کے اقدامات شامل ہوں۔ بصورت دیگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہ سکتی ہے جہاں ریاست، قانونی صنعت اور صحت عامہ، تینوں ہی بیک وقت دباؤ میں رہیں گے۔

Back to top button