ترقیاتی شعبے کےلیے وسائل میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے : احسن اقبال

 

 

 

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کےلیے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں، جب کہ ترقیاتی شعبے کےلیے وسائل میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتےہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کےلیے رقم میں مسلسل کمی ہورہی ہے، سرمایہ کاری جی ڈی پی کی 2.6 فیصد سےکم ہوکر 0.6 فیصد ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ترقیاتی بجٹ میں جمود رہا جس کے باعث متعدد منصوبے متاثر ہوئے۔ 2013 سے 2018 تک ترقیاتی بجٹ میں مسلسل اضافہ ہوا اور ملک بھر میں انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے، تاہم 2018 کے بعد ترقیاتی شعبے کےلیے مختص وسائل میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔

احسن اقبال نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 5 ہزار ارب روپے مالیت کے منصوبوں کے پی سی ون زیر عمل ہیں جب کہ آئندہ مالی سال کےلیے 720 ارب روپے کے نئے منصوبوں کی تجاویز بھی زیرغور ہیں۔

بجٹ 2026-27 : کسے ملے گا ریلیف اور کسے پہنچے گی تکلیف؟

انہوں نے کہا کہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاہم وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبوں کےلیے دستیاب وسائل محدود ہوجاتے ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر بلوچستان کی این 25 شاہراہ کےلیے 125 ارب روپے رکھے گئے ہیں،اس کےبعد وفاقی ترقیاتی پروگرام صرف ایک ہزار ارب روپے رہ جاتا ہیں، 720 ارب روپے کے نئے منصوبوں کی تجویز ہے، بلوچستان کےلیے 100 ارب روپے، 150 ارب روپے آزادکشمیر،گلگت بلتستان اور فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کےلیے مختص ہیں۔

 

 

Back to top button