بھارتی ڈیجیٹل دہشتگردی بے نقاب،کالعدم ایکشن کمیٹی آلہ کار نکلی

آزاد کشمیر کی سیاست ایک بار پھر غیر معمولی تنازع کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایک طرف کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حکومت کے خلاف احتجاج اور لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے، تو دوسری جانب وفاقی حکومت نے ایک ایسا دعویٰ سامنے رکھا ہے جس نے پورے معاملے کو قومی سلامتی کے تناظر میں لاکھڑا کیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان، ریاستی اداروں اور کشمیر کے حوالے سے منظم ڈیجیٹل پراپیگنڈا مہم کے پیچھے بھارتی فنڈنگ سے چلنے والا ایک نیٹ ورک سرگرم تھا، جو بوٹ فارمز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے گمراہ کن مواد پھیلا کر عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان دعوؤں نے نہ صرف ڈیجیٹل دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات بلکہ آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، انتخابی ماحول اور خطے میں جاری اطلاعاتی جنگ پر بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مبصرین کے مطابق پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے صرف روایتی دہشت گردی ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل محاذ پر بھی پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا، مصنوعی اکاؤنٹس، بوٹ فارمز اور منظم آن لائن مہمات جدید دور میں ایسی ہی جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہیں تاکہ براہ راست حملے کے بجائے عوامی رائے، ریاستی اعتماد اور سیاسی استحکام کو متاثر کیا جا سکے۔ ایسے میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا جس کا تعلق ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز سے تھا اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ پاکستان مخالف مواد کو سوشل میڈیا پر پھیلانے کے لیے بیرون ملک، خصوصاً بھارت سے مالی معاونت کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان، ریاستی اداروں، مسلح افواج اور قومی قیادت کے خلاف منظم انداز میں گمراہ کن مہم چلائی جاتی رہی، جبکہ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ آزاد کشمیر میں سرگرم کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق مواد کو خصوصی طور پر فروغ دیا جاتا تھا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس مہم کا مقصد صرف ریاست مخالف بیانیہ تشکیل دینا نہیں بلکہ پاکستان اور کشمیری عوام کے تاریخی، آئینی اور سیاسی تعلق کو کمزور کرنا بھی تھا۔ اسی بنیاد پر حکومتی نمائندے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ عناصر واقعی کشمیری عوام کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں تو وہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کے بجائے احتجاج اور بائیکاٹ کی سیاست کیوں اختیار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔ کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات ختم کیے جائیں۔ مذاکرات کی ناکامی نے آزاد کشمیر کی سیاسی فضا کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس معاملے کو پاکستان اور کشمیر کے تاریخی تعلق سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان قائم رشتے کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مہاجرین کی مخصوص نشستیں اور آئینی ڈھانچہ کشمیر کی سیاسی تاریخ کا اہم حصہ ہیں، جنہیں متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اطلاعاتی جنگ روایتی جنگ سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر کسی ملک کے اندر سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی معلومات، اشتعال انگیز بیانیے اور منظم پروپیگنڈا پھیلایا جائے تو اس کے اثرات نہ صرف سیاسی استحکام بلکہ عوامی اعتماد، انتخابی ماحول اور قومی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اب ڈیجیٹل سکیورٹی اور سائبر دفاع کو قومی سلامتی کا اہم ستون قرار دے رہے ہیں۔
آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال بھی اسی تناظر میں اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ایک طرف حکومت بھارتی مداخلت اور ڈیجیٹل پراپیگنڈا نیٹ ورک کا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب احتجاجی تحریک اپنے مطالبات پر قائم ہے۔ آنے والے دنوں میں لانگ مارچ، انتخابی مہم اور تحقیقات کے نتائج اس معاملے کی سمت کا تعین کریں گے، تاہم یہ واضح ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اب صرف اظہارِ رائے کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ وہ قومی سلامتی، سیاسی استحکام اور عوامی سوچ پر اثرانداز ہونے والے اہم محاذ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
