پاکستان اور قطر کی کوششیں کامیاب، ایران امریکہ سے مذاکرات کیلئے تیار؟

پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نے ثالثی کرنے والے ممالک کو نئی تجاویز پر اپنے اپنے جوابات ارسال کر دیے ہیں، جبکہ دس روزہ جنگ بندی کی ایک نئی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد میمورنڈم کی بنیاد پر امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق مذاکرات میں ترجیحی بنیادوں پر آبنائے ہرمز، منجمد اثاثوں اور بعد ازاں جوہری پروگرام پر بات کی جائے گی، تاہم تہران آبنائے ہرمز میں کسی نئی بحری راہداری کے قیام کی مخالفت کرتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل دوسری رات امریکا نے ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا، جبکہ ایران نے بھی خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا کا کہنا ہے کہ چونکہ ایران کی حکمت عملی جوابی کارروائی پر مبنی ہے، اس لیے امریکی حملے نہ ہونے کی صورت میں ایران نے بھی اپنی فوجی کارروائیاں روک رکھی ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان، قطر، مصر اور دیگر علاقائی ثالثوں نے امریکا اور ایران کو دس روزہ جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی ہے، جس پر دونوں فریق اپنے جوابات جمع کرا چکے ہیں۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، اعتماد سازی اور معطل مذاکرات کی بحالی ہے۔امن منصوبے میں دو اہم نکات شامل کیے گئے ہیں۔ پہلی شرط دونوں ممالک کی جانب سے دشمنانہ کارروائیوں کو روکنا ہے، جبکہ دوسری شرط عالمی بحری تجارت کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا ہے۔ تجویز کے مطابق عمان کے پانیوں سے گزرنے والا جنوبی بحری راستہ ایرانی حملوں سے محفوظ رہے گا، جبکہ ایرانی پانیوں سے گزرنے والا شمالی راستہ امریکی بحری پابندیوں سے آزاد ہوگا۔

ذرائع کے مطابق زیر غور تجاویز میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں سمندری سکیورٹی خدمات فراہم کرنے کے عوض مناسب سروس فیس وصول کرنے کی اجازت دی جائے، جس کے لیے آبنائے ملاکا کا ماڈل سامنے رکھا گیا ہے، جہاں ملائیشیا، انڈونیشیا اور سنگاپور مخصوص خدمات کے بدلے جہازوں سے فیس وصول کرتے ہیں۔ ایک اور تجویز کے مطابق یہ فیس ایک مشترکہ بین الاقوامی فنڈ میں جمع کی جا سکتی ہے، جسے بین الاقوامی بحری تنظیم کی نگرانی میں چلایا جائے گا۔

مبصرین کے مطابق اگر دونوں فریق جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کر لیتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی بلکہ پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کو بھی بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا۔

Back to top button